Mahmood Asghar

Choudhary

کئیر اسٹارمر کی کرسی ...ہل گئی .. 10 فروری 2026
Download Urdu Fonts
برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر اپنی کرسی چھن جانے سے بال بال بچے ہیں ۔ لیکن خطرہ ٹلا نہیں یہ خوشی زیادہ عرصہ قائم رہتی نظر نہیں آرہی ۔ ہوا کیا تھا ؟ انہیں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوا تھا کہ انہوں نے لارڈ منڈلسن کو امریکہ میں برطانوی سفیر مقرر کیا تھا ۔ اورلارڈ منڈلسن وہ ہے جس کا نام گزشتہ دنوں جاری ہونے والی ایپسٹن فائلز میں نکل آیا ہے کہ اس لارڈ منڈلسن کا تعلق جیفری ایپسٹن سے تھا ۔ جیفری ایپسٹن وہ عیاش شہری ہے جس نے امریکہ میں امراء کی عیاشی کے لئے ایک جزیرہ خرید کر رکھا ہوا تھا ۔ جس میں کم سن بچیوں کا جنسی استحصال ہوتا تھا ۔ برطانوی عوام کی جانب سے حکومت کو اتنی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ کئیراسٹارمر کے اپنی کابینہ کے استعفی آنا شروع ہوگئے اور کل تک لگتا تھا کہ کئیر اسٹارمر کا بھی بہت جلد استعفی آجائے گا ۔ لیکن کابینہ نے فی الحال ان کا ساتھ دیا ہے اورکرسی کے اتنے بڑے جھٹکے کو وہ سہہ گئے ہیں۔ کیونکہ کئیر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان کو یہ عہدہ دینے سے پہلے تمام قانونی چھان بین کی تھی اور انہیں اس بات کا قطعی علم نہیں تھا
کئیر اسٹارمر کی کرسی فی الحآل بچ تو گئی ہے لیکن اس کے چاروں پاؤں کمزور ہوگئے ہیں اور یہ کسی بھی وقت لڑکھڑا سکتی ہے ۔کیسے ؟ مثلا آنے والے دنوں میں لارڈ منڈلسن کی تقرری کے بارے مزید سرکاری دستاویزات کی اشاعت متوقع ہیں اگر ان میں ایسی شرمناک تفصیلات سامنے آگئی کہ جن کا تعلق براہ راست وزیر اعظم کئیر اسٹارمر سے ہے تو سمجھ کرسی کا ایک پاؤں دھڑام سے گر جائے گا ۔۔
مانچسٹر کے علاقہ گورٹن اور ڈینٹن میں پیش گوئی کہ جارہی ہے کہ لیبر کی مضبوط ترین سیٹ داؤ پر ہے اس کو بچانے کے لئے لوسی پاؤل سے لیکر صادق خان تک کو کمپین کے لئے مانچسٹر لایا گیا ہے لیکن پھر بھی خطرہ بتایا جارہا ہے کہ شاید لیبر گرین پارٹی اور ریفارم یوکے سے بھی کم ووٹ لے ۔ اگر ایسا ہوگیا توکئیر اسٹارمر کی کرسی کا دوسرا پاؤں بھی کھسک جائے گا
اس طرح مئی میں آنے والے اسکاٹ لینڈ ، ویلز اور انگلینڈ کے بلدیاتی الیکشن میں اگر لیبر پارٹی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تو سمجھو کہ تیسرا پاؤں بھی کھسک جائے گا اور پارٹی کے اندر بغاوت پھر سر اٹھا لے گی کرسی تو اب بھی کھسک سکتی تھی اصل مسئلہ یہ ہے کہ لیبر پارٹی میں فی الحال متبادل قیادت موجود نہیں جو بے داغ ہو یا صاف ہو ۔ ہیلتھ سیکرٹری وی سٹرینگ ایک اہم نام تھا لیکن اس کے اپنے دوستانہ تعلقات لارڈ منڈلسن سے گہرے رہے ہیں ۔ ڈپٹی پرائم منسٹر اینجیلا رائنر ایک اہم نام تھا لیکن ان محترمہ پر دوسرے مکان کے ٹیکس فراڈ کا مقدمہ چل رہا ہے ۔ آجا کے باجی شبانہ رہ جاتی ہے لیکن برطانیہ شاید فی الحال ایک مسلم خاتون وزیر اعظم جیسے انقلابی قدم کے لئے تیار نہیں ہے
ویسے برطانیہ کے جمہوری نظام کو دیکھ کر ایک حسرت جاگتی ہے کہ کاش پاکستان میں بھی ایسا نظام آجائے جہاں ایک معمولی سی غلطی پر وزرائے اعظم کی کرسیاں سرکنا شروع ہوجائیں ۔ذرا سوچیں کہ اگر ایپسٹن فائلز میں اگر کسی بھی پاکستانی کا نام آجاتا توکسی وزیر اعظم کی کرسی ہلنے کی بجائے اس نے کمال ڈھٹائی سے یہ مشن یوٹیوبرز کو سونپ دینا تھا اور انہوں نے زمین و آسمان کے قلابے ملا کر جیفری ایپسٹن کے ساتھ کسی بھی تعلق کو اپوزیشن کی سازش قرار دے دینا تھا ۔ اور ان تمام تصویروں اور تمام رپورٹوں کو جعلی قرار دے دینا تھا ۔



Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام

Admin Login
LOGIN