Mahmood Asghar

Choudhary

اٹلی کے آسمانوں‌میں‌رنگ ... 8 فروری 2026
Download Urdu Fonts
اٹلی کے آسمانوں میں رنگ یہ میٹنگ شہر کے ثقافتی شو کی تیاری پر تھی ۔جو اٹلی میں ہمارے شہر کے سب سے بڑے پارک میں منعقد ہوتا تھا ۔ مصر ، تیونس ، مراکش، انڈیا ، پاکستان اور کئی ممالک کی تنظیمات کے صدور موجود تھے ۔ سب اپنے اپنے آئیڈیاز پیش کر رہے تھے ۔ کوئی کہہ رہا تھا ۔ ہم روایتی رقص پیش کریں گے ۔ ہم فوڈ اسٹال لگائیں گے ۔ ہم اپنے لباس کی نمائش کریں گے ۔۔ لیکن کلچرل کونسلر کی چہرے پر بوریت کی تہہ جمی تھی ۔ کہنے لگا یار کچھ نیا بتاو۔ آخر مئیر میری طرف دیکھا اور پوچھنے لگا ۔۔ محمود ، پاکستان کیا کرے گا ؟ کوئی ایسا جو پہلے ہمارے شہریوں نے نہ دیکھا ہو میں نے کرسی سیدھی کی اور کہا ہم بسنت منائیں گے ۔ کمرے میں سرگوشیاں پھیل گئی ۔ بسنت وہ کیا ہوتا ؟میں نے کہا ہم آسمان پر پتنگیں اڑائیں گے اور آپ کے پارک کی فضا کو رنگوں سے بھر دیں گے ۔ ایک اطالوی آفیسر کہنے لگا ۔ کائٹ لیکن وہ تو صرف سمندر کنارے اڑائی جاسکتی ہے ۔ میں نے کہا جس پنجاب سے میں آیا ہوں وہاں کوئی سمند رنہیں ہے لیکن ہماری یہ خوبصورت ثقافت ہے کہ ہم اس کی فضاوں کو صدیوں سےرنگوں سے بھرتے رہے ہیں ۔ روی کہنے لگا ۔ تمہاری ثقافت وہ ہم ہندووں نے شروع کی تھی ۔ میں نے قہقہہ لگایا کہ اگر آغاز کی بنا پر ثقافتیں تقسیم ہوں تو پھر چائے سے لیکر ، کاغذ تک اور کافی سے لیکر بریانی تک کچھ بھی کسی کا نہیں ہے ۔ ثقافتیں سفر کرتی ہیں ۔ یاد رہے انڈیا سے بھی پہلے یہ روایت وو سو قبل مسیح چین میں پیدا ہوئی ۔ آغاز جنگی اشاروں اور پیغام رسانی کے لیےہوا مگر تہذیبیں سفر کرتی ہیں۔ برصغیر پہنچی تو میلے بن گئی، امیر خسرو اور نظام الدین اولیا کے آنگن میں پہنچی تو دعا بن گئی، لاہور پہنچی تو جنون بن گئی۔ لاہوریوں نے اسے پہچان دی ہے ۔ سجایا، سنوارا اور دنیا کو ایک نئی خوبصورتی دی ۔ اب میٹنگ کا موضوع فیسٹیول نہیں رہا تھا، بلکہ پتنگ بن چکی تھی۔سب کی دلچسپی بڑھ چکی تھی ان کے چہرے متحیر ہوگئے تھے مئیر کہنے لگا کیا واقعی ایسا ممکن ہے کہ تم ہمارے اس شہر کوریجو کی فضا میں پتنگ اڑاوگے یہ تو میریکل ہوگا ۔ میں نے کمال عزم سے کہا ایسا ہی ہوگا ۔ اس دن ہم اس شہر کو سمندری شہر بنادیں گے میٹنگ میں میری میری تجویز مان تو لی گئی لیکن اب سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ پاکستان سے پتنگیں منگوائیں کیسے ؟ پھر مجھے یاد آیا کہ ہمارے شہر میں شفیق لاہوریا موجود ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی لاہور کا ہو اور اسے پتنگ بازی نہ آتی ہو ۔ میں نے اسی شام شفیق سے ملاقات کی اس کی خوشی دیدنی تھی ۔ وہ بولا جناب مسئلہ ہی کوئی پتنگ منگوانے کی کیا ضرورت ہے ہم پتنگیں خود بنا لیں گے ۔ اور پھر وہ دن آیا جس دن شہر کی سب سے زیادہ دلچسپی اس بسنت فیسٹول میں تھی اس دن ہم نے اٹلی کی فضائوں میں لاہور ی کلچر کو اڑایا نہیں بلکہ جما دیا ۔۔ لاہوریوں کے دل میں بسنت بستی ہے ۔یہ ایک تہوار نہیں ایک یاد ہے ایک روایت ہے ۔ا ٓپ جتنے مرضی ہے فتوے لگالیں اپنی انتہاپسندی کا بیج بولیں کسی تہذیب کو مٹانے کی کوشش کرلیں ۔ ثقافت ڈی این اے میں ہوتی ہے ۔ بیس سال پہلے ہمارے کم عقل حکمرانوں نے بہت بڑا ظلم کیا تھا پابندی کے نام پر جب انہوں نے اس ثقافت پر ضرب لگانے کی کوشش کی تھی تو ایک جنبش قلم سے ہماری روایت کو مٹانے کی کوشش کی تھی جو اب ایک ہی جھٹکے سے یوں آزاد ہوئی کہ سارا ملک ششدر رہ گیا ۔ اربوں کا بزنس تو ایک طرف خوشیوں کا ایک سفر سے جودوبارہ شروع ہوا ، گھٹن کی موت ہوئی اور انتہاپسندی سمٹنا شروع ہوئی دعا ہے کہ یہ بسنت لاہور کے پائلٹ پراجیکٹ سےنکل کر پنجاب کے ہر شہر ہر گاوں میں پہنچے ۔۔ اور اس خطے کی فضائوں میں امن سلامتی ، اور خوشیوں کے رنگ بکھر جائیں ۔ہاں اس سلسلے میں قانون سازی اور اس کو ریگولیٹ ضرور کیا جانا چاہئے تاکہ اس کے نقصانات کم سے کم ہوں اور کوئی آنے والا حکمران پھر سے یہ بند کلچر کا مظاہرہ کر سکے یورپ میں موجود پاکستانی تنظیمات اور خاص طو رپر سفارت خانوں کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے اپنے ممالک کے ثقافتی تہواروں میں بسنت کا آئیڈیا ضرور رکھا کریں ۔ اس سے پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا بھر میں دکھانے میں مدد ملے گی #محموداصغرچودھری



Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام

Admin Login
LOGIN