Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
بسنت کی خوشیاںلوٹآئیں... 6 فروری 2026
Download Urdu Fonts
بسنت کی شکل میں لاہور کی خوشیاں لوٹ آئی ہیں ۔ پورے پنجاب میں ایک جشن کا ماحول ہے ۔ 50کروڑ سے لیکر ڈیڑھ ارب کا بزنس صرف پتنگوں اور ڈور کا بتایا جا رہا ہے ۔ لیکن اس سے وابستہ جو دیگر کھانوں، کھابوں ،میوزک شوز اور لباس کی خرید و فروخت ہوگی اس بزنس کا اندازہ فی الحال لگانا مشکل ہوگا ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے تہوار اور میلے مقامی غریب دیہاڑی داروں اور چھوٹے بزنسز کو بہت فائدہ پہنچاتے ہیں ۔ مائیکرو اکانومی کو بہتر بناتے ہیں ۔ دوسری جانب نفسیاتی طور پر بھی تہوار اور میلے معاشرے میں گھٹن اور انتہا پسندانہ خیالات کے خاتمے کا باعث بنتے ہیں ۔ خوشیاں لوگوں کو جوڑنے اور ایک دوسرے کے قریب لانے کا سبب بنتی ہیں ۔ مثبت سرگرمیاں معاشرے میں صحتمندانہ رجحان کا باعث بناتی ہیں ماضی میں معصوم قیمتیں جانیں ضائع ہونے کا باعث بسنت پر پابندی لگا دی گئی تھی ۔یہ قیمتیں جانیں بسنت کی وجہ سے نہیں تھیں ۔ بلکہ اس میں ہونے والے غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے ضائع ہوئی تھیں ۔ مثلا کیمیکل ملی یا دھاتی ڈورکاغیر قانونی استعمال ہوا جس سے کئی راہگیروں کے گلے کٹ گئے اموات ہوئی ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں قانون پر عملدرآمد کی کمزوری بند کلچر کا باعث بنتی ہے ۔ یعنی اگر کسی بھی معاملے میں کوئی غیر قانونی سرگرمی ہوتی ہے تو بجائے اس کے کہ اس سرگرمی کو روکا جائے اور قانون کا عملدرآمد کروایا جائے اس پورے کے پورے تہوار پر ہی پابندی لگا دی جاتی ہے ۔ اس قانونی کمزوری کا سدباب ہونا چاہئے ۔ دھاتی یا کیمیکل ڈور والوں کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے لیکن کسی بھی تہوار کو روکنا دراصل قوم سے خوشیوں کو چھیننا ہے دوسری جانب عوام کو بھی تربیت کی ضرورت ہے ۔ ہر شہری کے دل کے اندر یہ إحساس پیدا ہونا چاہئے کہ اس کی تفریح کسی دوسرے کے لئے آزار کا سبب نہ بنے ۔ کسی ایک کی ہنسی کسی دوسرے کے غم کا باعث نہ بنے ۔ اس سال اگر یہ تہوار خیر خیریت سے گزر جاتا ہے تو اس کو ہر سال بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہئے جس میں قانونی کی عملداری اتنی سخت کی جائے کہ کسی معصوم کی گردن پر کوئی ڈور نہ پھرے ، کسی گھر میں کوئی ماتم نہ بجھے ۔ بسنت کا تہوار سیاحت کے فروغ کا سبب بھی بن سکتا ہے اس سلسلے میں دنیا بھر میں موجود سفارت خانوں کو خصوصی ٹاسک دئیے جا سکتے ہیں کہ وہ دنیا بھر کے ممالک میں بڑے بڑے پارکوں میں اس تہوار کو منا کر غیر ملکیوں کو پاکستان کی جانب متوجہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ تاکہ دنیا جان سکے کہ پاکستانی خو ش ہونا بھی جانتے ہیں ۔ اوورسیز پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کو ان مہینوں میں پاکستان کھینچ کر ہاسپیٹیلٹی اور ٹورزم کے بزنس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے میری طرف سے حکومت پنجاب کو لاہور والوں کی خوشیاں لوٹانے پر مبارکباد ، امید ہے کہ دیگر صوبے بھی اس طرح کے ثقافتی تہواروں سے پاکستان کا خوبصورت ، مثبت امیج ابھارنے میں اپنا کردار ادا کریں گے #محموداصغرچودھری
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.