Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
محمد دیپک .... 5 فروری 2026
Download Urdu Fonts
محمد دیپک برائی جتنی بھی بڑی کیوں نہ ہو ۔اچھائی کے سامنے ہار جاتی ہے ۔ 26جنوری کو انڈیا کے یوم جمہوریہ پر بجرنگ دل کے کچھ غنڈے ایک بزرگ مسلمان کی دوکان پر حملہ آور ہوئے اور ان پر زور دینے لگے کہ وہ اپنی دوکان کے بورڈ سے لفظ بابا ہٹا دے ۔ کیونکہ یہ ہندووں کا لفظ ہے ۔اتنے میں دیپک کمار نامی ایک شخص وہاں آگیا اوران غنڈوں کوجانے کا کہا کہ ان باباجی کو تنگ نہ کرو یہ ان کی پشتینی دوکان ہے اور یہ اس کا نام کبھی بھی تبدیل نہیں کریں گے دیپک کمارکمار باباجی کے پڑوس میں ہی ایک جم چلاتا ہے ۔ اس کی ڈیل ڈول ،لمبا قد ، چوڑی چھاتی اور کسرتی بدن دیکھ کر غنڈے تو پریشان ہو کر چلے گئے لیکن جانے سے پہلے اس سے پوچھنے لگے تمہارا نام کیا ہے ۔ اس نے کہا میرا نام محمد دیپک ہے ۔ غنڈے وہاں سے چلے گئے لیکن بعد میں اترکھنڈ کے تمام بجرنگی دلوں کو ملا کر باقاعدہ ایک جلوس کی شکل میں پولیس پروٹیکشن میں اس کے جم کے باہر پہنچے اور اس کے خلاف دھرنا دیکر بیٹھ گئے۔ اور نعرہ بازی شروع کر دی کہ مسلمانوں کے اس حمایتی کو سبق سکھایا جائے ۔ پولیس چونکہ ہندووں کا ہی ساتھ دیتی ہے اس نے دیپک کے خلاف مقدمہ بھی بنایا اور اسے گرفتار بھی کیا ۔ لیکن دیپک کمار اپنی بات پر اڑا رہا ۔اور کسی سے خوف زدہ نہیں ہوا یہ محمد نام کی برکت کہہ لیں یااس دیپک کمار کی مظلوم کے لئے کھڑا ہونے کا فیض دیکھیں کہ اس وقت ساری دنیا اس محمد دیپک کے گن گارہی ہے ۔ بی بی سی اس کا انٹرویو کرنے پہنا ہے ۔ جسے کل تک کوئی جانتا نہیں تھا اس کے سوشل میڈیا فالورز کی تعداد اب لاکھوں میں پہنچ گئی اور وہ ایک ہیرو بن کر سامنے آیا ہے ۔ پولیس اب منہ چھپاتی پھر رہی ہے ۔ عالمی میڈیا اس ہیرو کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے میری طرف سے دیپک کمار عرف محمد دیپک کو دل سے سلام ۔ دیپک تم محمد کے ایک نام لیوا بزرگ شہری کے لئے تنہا کھڑے ہوگئے ۔ محمد تم پر ضرور خوش ہوئے ہوں گے
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.