Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
ایپسٹن فائلز اور روشن خیال اندھیرے ... 2 فروری 2026
Download Urdu Fonts
ایپسٹن فائلز اور روشن خیال اندھیرے بچپن میں جب بزرگ دولت میں اضافے کے بجائے دولت میں برکت کی دعا مانگنے کی تلقین کرتے تھے تو سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے۔ دولت ہے تو زیادہ مانگو، یہ برکت کیا ہے ؟ مگر وقت نے سکھایا کہ دولت کا اضافہ اکثر انسان کو حیوان بھی بناسکتاہے۔ وہ اسے ایسی پستی میں دھکیل دیتا ہے جہاں انسانیت بھی نظریں جھکا لے۔ ایپسٹین فائلز کی حالیہ دستاویزات نے اسی تلخ سچ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ طاقت، دولت اور اثر و رسوخ کے ایوانوں میں بیٹھے وہ چہرے، جو خود کو مہذب دنیا کا نمائندہ کہتے ہیں، معصومیت کے استحصال میں کوئی کسی سے کم نہیں ۔ کم عمر بچوں کے استحصال کی کہانیاں تہذیب کے چہرے پر پڑا وہ داغ ہیں جسے کوئی میک اپ نہیں چھپا سکتا۔ جنسی استحصال کو باقاعدہ ایک منظم طریقے سے ترتیب دینا ۔ اس مکروہ کھیل میں حکمرانوں ، دولتمندوں ، اور شو بز کے ناموں کو شامل کرنا ان کی ویڈیوز بنانا اور کئی سال تک اس کھیل کو دنیا بھر سے چھپا کر رکھنا ۔میری تو عقل جواب دے گئی ہے کہ جنسی ہوس کی حد کیا ہے؟ درندگی کا کنارہ کیا ہے ؟ یہ کون سی کھائی ہے جس میں گرتے ہوئے اسے خوف نہیں آتا، شرم نہیں آتی، ضمیر نہیں جاگتا؟ کیا دولت واقعی اتنی طاقتور ہے کہ وہ قانون کو باندی بنا لے، اختیار کو اپنی رکھیل اور اقتدار کو دربان بنا کر دروازے پر کھڑا کر دے؟ دوسری جانب ایپسٹین فائلز نے کم از کم یہ تو ثابت کر دیا کہ جرم کا کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا۔ معصومیت کے استحصال کا کوئی مذہب نہیں، کوئی علاقہ نہیں، کوئی مخصوص لباس نہیں۔ افغانستان میں کم عمری کی شادیوں پر انگلی اٹھانے والے اگر واقعی اخلاقی برتری کے دعویدار ہیں تو انہیں اپنے ایوانوں میں پلنے والی اس سیاہی کا بھی حساب دینا ہوگا۔ ٹائی کوٹ پہن کر فیصلے سنانے والے، انسانی حقوق کے عالمی منشور لہرانے والے، اب کس منہ سے اخلاقی درس دیں گے؟ لیکن اس ساری بحث میں ایک اور کڑوا سچ بھی ہے۔ مشرق ہو یا مغرب، طاقت جب بے لگام ہو جائے تو انسان کی اصل فطرت کھل کر سامنے آتی ہے۔ وہی معصوم ہے جسے موقع نہیں ملا، جسے دولت نہیں ملی، جس کے ہاتھ میں اختیار نہیں آیا۔ سوال یہ نہیں کہ کون اچھا ہے، سوال یہ ہے کہ کس کے پاس اختیار تھا اور اس نے اس اختیار کے ساتھ کیا کیا؟ دل دکھتا ہے اس بات پر کہ ان طاقتور چہروں کے اندر ضمیر نام کی کوئی چیز زندہ کیوں نہیں رہتی؟ یہ ہوس کیا ہے؟ یہ حرص کہاں جا کر رکتی ہے؟ کیا انسان کی خواہش کی کوئی حد ہے بھی یا نہیں؟ یا پھر یہ سفر تب تک جاری رہتا ہے جب تک سب کچھ بھسم نہ ہو جائے۔ بچوں کی معصومیت بھی، بڑوں کا قانون پر اعتماد بھی، اور تہذیب ، تمدن اور معاشرت کے آداب بھی ؟
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.