Mahmood Asghar

Choudhary

سپین امیگریشن کے تناظر میں‌حکومت سے زند گزارشات ... فروری 2026
Download Urdu Fonts
سپین امیگریشن کے تناظر میں حکومتِ پاکستان سے چند اہم گزارشات جیسا کہ ہسپانوی حکومت کی جانب سے پانچ لاکھ غیر ملکیوں کو قانونی حیثیت دینے کے اعلان نے یورپ بھر میں مقیم تارکینِ وطن خصوصاً پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا ہے، ایسے میں حکومتِ پاکستان کے متعلقہ اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بروقت اور مؤثر اقدامات کے ذریعے اپنے شہریوں کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں مدد فراہم کریں۔ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (چیئرمین سید قمر رضا)، اوورسیز پاکستانی کمیشن (وائس چیئرپرسن امجد ملک)، وزارتِ خارجہ (اسحاق ڈار)، وزارتِ داخلہ (محسن نقوی) اور وزارتِ اوورسیز پاکستانیز (چوہدری سالک حسین) کو اس سلسلے میں مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔ 1۔ سب سے پہلے سپین میں قائم پاکستانی سفارت خانے اور قونصل خانوں کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ پاسپورٹ کے اجراء کے عمل کو تیز کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی اپنی دستاویزات مکمل کر سکیں۔ اگر سفارت خانے کو عملے یا جگہ کی کمی کا سامنا ہو تو وزارتِ خارجہ فوری طور پر اضافی وسائل فراہم کرے اور عارضی بھرتیوں کی اجازت دے تاکہ سروس ڈیلیوری متاثر نہ ہو۔ 2۔ اسی طرح اس امیگریشن عمل کے لیے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں موجود پولیس حکام کو واضح ہدایات جاری کی جائیں کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے کریکٹر سرٹیفکیٹس ترجیحی بنیادوں پر اور مقررہ مدت کے اندر جاری کیے جائیں۔ چونکہ اب یہ سرٹیفکیٹس آن لائن بھی جاری ہو سکتے ہیں، اس لیے اسلام آباد پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے آن لائن نظام کو سپین میں موجود پاکستانی سفارت خانے سے منسلک کیا جائے تاکہ درخواست دہندگان کو پاکستان میں کسی نمائندے پر انحصار نہ کرنا پڑے اور وہ سفارت خانے کے ذریعے ہی یہ دستاویز حاصل کر سکیں۔ 3-سپین میں تعینات پاکستانی سفیر کو ہسپانوی حکام کے ساتھ باضابطہ رابطہ کر کے ایسا انتظام کرنا چاہیے کہ سپین میں موجود پاکستانی ایمبیسی سے جاری ہونے والا پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ بلا اعتراض قبول کیا جائے۔ اس حوالے سے دو طرفہ انتظامی مفاہمت پاکستانی کمیونٹی کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ 4- ایک اہم مسئلہ گمشدہ پاسپورٹس کا بھی ہے۔ جن افراد کے پاسپورٹ ضائع ہو چکے ہیں انہیں غیر ضروری پیچیدگیوں اور سخت شرائط کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہسپانوی پولیس کی لاس رپورٹ جیسی شرائط میں نرمی کے لیے سفارتی سطح پر بات چیت کی جائے۔ مزید یہ کہ گمشدہ پاسپورٹ کے اجراء کے لیے جاری طویل انکوائری کے طریقہ کار کو سادہ اور تیز کیا جائے، یا متعلقہ پاکستانی اداروں کو ہدایت دی جائے کہ وہ ایسے کیسز کو فوری بنیادوں پر نمٹائیں تاکہ درخواست گزار امیگریشن کے اس تاریخی موقع سے محروم نہ رہیں۔ یہ وقت رسمی بیانات کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ اگر حکومتی ادارے سنجیدگی اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں تو سپین میں مقیم ہزاروں پاکستانی قانونی تحفظ حاصل کر کے نہ صرف اپنی زندگیوں کو مستحکم بنا سکتے ہیں بلکہ پاکستان کے لیے ترسیلاتِ زر اور مثبت تشخص میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔ محمود اصغر چودھری سیکرٹری جنرل پاکستان اوورسیز الائنس فورم #محموداصغرچودھری



Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام

Admin Login
LOGIN