Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
شور یا شعور .. 4 جنوری 2026
Download Urdu Fonts
شور یا شعور دو دن پہلے انجنئیر محمد علی مرزا کا شاہزیب خانزادہ کے ساتھ تقریباً آدھے گھنٹے کا انٹرویو چلا ہے جس میں بائیس منٹ ایک ایسے موضوع پر بات ہوئی ہے جس کو سن کر ہی کوئی بھی اہل دل پسیج سکتا تھا کہ کس طرح پاکستان کی جیلوں میں کچھ بے گناہ لوگ پھنسے ہوئے اور کس طرح انسانیت سسک رہی ہے اور یہ سب کچھ اس دین متین کے نام پر ہو رہا ہے جس کے ہادی سارے جہانوں کے لیکر رحمت بن کر آئے ۔ جنہوں نے پتھر مارنے والون کے لئے دعائیں مانگیں لیکن ان کے امتی ریاستی سر پرستی میں جبر کی ایسی داستانیں رقم کر رہے ہیں کہ انسانیت شرما جائے ۔ انجنئیر محمد علی مرزا نے ظفر بھٹی کا ذکر سنایا ہے جو تیرہ سال ایک اسے جرم کی سزا کاٹ کر رہا ہوئے جن سے ملنے خود جج جیل میں گیا اور ان سے معافی مانگی کہ میں نے یہ فیصلہ انتہاپسندوں کے دباؤ میں سنایا حالانکہ میں جانتا ہون کہ آپ بے گناہ تھے ۔ تیرہ سال بعد وہ شخص رہا ہوا اور تین دن بعد فوت ہوگیا ۔ ریاست کیا ان تیرہ سالوں کا کوئی ہرجانہ دے سکے گی ایک اور داستان مرزا صاحب نے سنائی کہ ایک بیس سالہ نوجوان لڑکی کو پانچ سال جیل بھگتنا پڑی کیونکہ اس لڑکی نے ایک لڑکے کی ہوس کو انکار کیا تھا تو اس لڑکے نے اسے توہین مذہب کے الزام میں پھنسا دیا ۔ بیس سال کی عمر سپنے اور خواب سجانے کی عمر کا کوئی ازالہ کر سکے گا مرزا صاحب نے ایک واقعہ سنایا ہے ایک نابینا قیدی کا جس کے پاس فون بھی بٹنوں والا ہے اور اس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے فون سے توہین آمیز مواد شئیر کیا ہے ۔ ایک اور واقعہ سنایا ہے ایک پاگل کا جس کے بارے میڈیکل بورڈ نے بھی سرٹیفیکٹ دے دیا ہے کہ وہ پاگل ہے مگر وہ جیل کاٹ رہا ہے مرزا صاحب کے انکشافات سے لگتا ہے کہ پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پر ناانصافی ہورہی ہے اور انتہا پسند گروہوں نے اس توہین مذہب والے معاملے کو باقاعدہ ایک بزنس بنایا ہوا ہے اور ہنی ٹریپ کے ذریعے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے مجھے کچھ مسیحی دوست یہ انٹرویو بھیج رہے ہیں اور اسے شئیر کرنے کا بھی کہہ رہے ہیں کہ دیکھیں مملکت خداداد میں یہ کیا ہورہا ہے میرا اپنا بھی ذاتی خیال تھا کہ اس انٹرویو کے بعد پورے ملک میں ایک بیداری کی مہم شروع ہوجائے گی سوالات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگا کیونکہ ابھی کچھ دن پہلے ہی پاکستان کے ایک نوجوان کالم نگار نظامانی نے انگریزی میں ہمیں سمجھایا ہے کہ بومرز کا دور ختم ہوچکا ہے اور اب جنریشن زی آگئی ہے جو بیدار ہے جو ریاست سے سوال کرے گی نظامانی کے آرٹیکل میں دی گئی دلیل دو دن مین ہی دم توڑ گئی نوجوان نسل بالکل بھی بیدار نہین ہوئی اور نہ ہی سوال کر رہی ہے سب بکواس یہ نوجوان نسل کسی بھی اہم مسئلے پر نہ تو سوال کرے گی نہ ہی کسی انسانی ایشو پر بومرز کو کٹہرے میں لائے گی کوئی ایک پوسٹ کوئی ایک سوال کوئی ایک شور مجھے اس انٹرویو میں کئے گئے ان انکشافات کے بارے مین کہیں بھی پڑھنے کو نہیں ملا زورین نظامانی کے کالم مین جو لکھا ہے اس کا ایک فیصد بھی سچ ثابت نہیں ہوا نوجوانون میں کوئی شعور نہیں آیا البتہ شور بہت آگیا ہے نوجوانوں نے مرزا محمد علی کے اس تیس منٹ کے انٹرویو کے پہلے بائیس منٹ کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے اور اس کے صرف ایک جملے پر کئی کئی گھنٹوں کے وی لاگ ، میمز اور پوسٹیں شئیر کر دی ہیں جس میں وہ ایک لیڈر کے جیل میں کھانے پر دیسی گھی کے تڑکے کی خوشبو کی بات کر رہا ہے آپ یہیں سے نوجوان نسل کی فکر کا اندازہ کر سکتے ہین کہ وہ اگر انقلاب لائیں گے بھی تو اس انقلاب میں کون سی ترجیحات شامل کی جائیں گی ۔ نوجوانوں کی نظر میں شخصیت پرستی اہم ہے۔ عام پبلک کے بارے انہیں کوئی پروا ہ نہین ہے انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ کہ جو لوگ دین امن و سلامتی کے نام کو استعمال کرتے ہوتے توہین مذہب کا مکروہ دھندا چلا رہے ہیں وہ کب ریاست کی پکڑ میں آئیں گے اگر آپ نے شاہزیب خانزادہ کا یہ پروگرام نہیں سنا تو اس کے پہلے بائیس منٹ ضرور سن لیں اس کے بعد آپ کو سمجھ آئے گی کہ نوجوانوں میں شعور بیدا ر ہوا ہے یا شور #محموداصغرچودھری
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.