Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
جاوید اختر کا مکالمہ ......22 دسمبر 2025
Download Urdu Fonts
کل میں نے صفدر وڑائچ سمیت دیگر دوستوں کی پرزور فرمائش پر مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کا پورا مباحثہ آخر سن لیا ۔ جاوید اختر آجکل اپنے ملحدانہ نظریات اور پاکستان مخالف بیانات کے باعث ہندوتوا کے چہیتے بنے ہوئے ہیں اور ان بے وقوفوں کو اتنی سمجھ نہیں آرہی کہ ایک ملحد جب خدا کا انکار کر رہا ہوتا ہے تو وہ سب خداؤں اور سب بھگوانوں کا انکار کر رہا ہوتا ہے تو اس کے حق میں بیانات لگا کر یا اس کو ہلہ شیری دے کر آپ اپنی آستھا اور اپنے دھرم کو بھی بھی تختہ مشق بنا رہے ہوتے ہیں بس کیا کریں نفرت انسانوں کے ذہن پر تالا لگا کر اسے اس طرح بند کر دیتی ہے کہ وہ دھرندر فلم میں رحمان ڈکیت کے مرنے والے سین پر بھی ہر ہر مہادیو کے نعرے لگانا شروع ہوجاتا ہے اس بے وقوف کوسمجھ نہیں آئی کہ ایک پاکستانی گینگسٹر کا مرنا پاکستان کے حق میں جاتا ہے اس کے خلاف نہیں خیر اس علمی مباحثہ میں مفتی شمائل کی جانب سے جاوید اختر کو گھیر کر بند گلی میں لے جانا اور اس کا کہنا کہ مجھے کنٹینجینسی آرگومنٹ کی سمجھ ہی نہیں آرہی جیسے مقامات دیکھ کر مجھے یہ گونا مسرت ہوئی کہ ہمارے مذہبی اداروں میں بھی اب ایسی تربیت ہورہی ہے کہ جس میں وہ کوئی مباحثہ بغیر کسی مذہبی کتاب کے حوالہ دئیے کر سکتے ہیں اور نام نہاد دانشوروں کو ان کی ہی چہیتی زبان اور فلسفے میں زچ کر سکتے ہیں مفتی شمائل نے ایک دفعہ بھی لفظ اللہ قرآن حدیث اسلام اور دینی اصطلاحات استعمال نہ کرکے ثابت کر دیا کہ اہل علم مذہبی شخصیات ان سے ہٹ کر دوسرے کے میدان میں جا کر بھی کھیل سکتے ہیں مفتی شمائل کی عقل کو داد دینا پڑے گی کہ اس نے ابتدائی سپیچ میں ہی جاوید اختر صاحب کو ان تمام موضوعات سے بھی روک دیا تھا جس میں وہ طبع آزمائی کر سکتے تھے اور جاوید صاحب اسی مین پھنس گئے وہ باربار سائنس، فیتھ اور مذہب جیسی اصطلاحات کو بیچ میں لاتے رہے حالانکہ بحث بہت سادہ تھی کہ خدا ہے یا نہیں ؟ بلا شبہ صدیوں سے جاری اس بحث کا کوئی حتمی جواب تو ہو نہیں سکتا مگر جاوید اختر صاحب کے اپنے ہی دیئے ہوئے جوابوں میں وہ پھنستے نظر آئے اور مفتی صاحب نے کمال ہوشیاری سے انہیں “خدا کی ہدایت کے سوا برائی اور اچھائی کی تعریف کیا ہے ؟ “ جیسے سوال میں ایسا پھنسایا کہ پہلے تو وہ اسے اکثریت کی صوابدیدپر لیکر آئے تو مفتی صاحب نے پوچھا پھر ہٹلر کے ملک میں اکثریت نے قتل عام کو چن لیا تھا تو کیا وہ برائی جائز ہوگئی تھی تو جاوید اختر گھبرا کر فورا اسے پوری دنیا کی اکثریتی رائے میں لے آئے تو مفتی صاحب نے لوز بال پر چھکا لگایا کہ اگر دنیا کی اکثریت حق کی پہچان ہے تو پھر خدا کو کیوں نہیں مان لیتے ؟ اسی سوال پر وہ اپنا مقدمہ ہار گئے خدا کے تصور کو ماننا ہو یا رد کرنا قطعی طور پر آسان کام نہیں۔یہ سوال صدیوں سے اپنی جگہ قائم ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔البتہ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اہل مذہب بھی مکالمے سے گفتگو کر سکتے ہیں اور غصے میں آئے بغیر سوال و جواب کو جگہ دے سکتے ہیں ایسے علمی مذاکروں کی روایت پاکستان میں پڑنی چاہیے تاکہ علم کے دروازے روشن ہوں اور معاشرے میں انتہا پسندی کا خاتمہ ہو اور ہمارے نوجوانوں کو نئے چیلنجز کا اندازہ ہو تاکہ وہ مسلکی اختلافات سے نکل کر جاننے کی کوشش کریں کہ اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.