Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
اطالوی کھانے ... 19 دسمبر 2025
Download Urdu Fonts
اس سال دس دسمبر کو یونیسکو نے تمام اٹالین کھانوں کو انسانوں کے ثقافتی ورثے کی لسٹ میں شامل کر لیا ہے ۔ اس سے پہلے یہ اعزاز کسی ملک کو حاصل نہیں ہے کہ اس کے تمام کھانے ثقافتی ورثے میں شامل ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اطالوی معاشرے میں خاندان اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، مائیں اور نانیاں نسل در نسل کھانوں کے ترکیبیں سکھاتی ہیں اور آگے منتقل کرتی ہیں ۔ اطالوی کھانوں کی روایت صدیوں سے بغیر ٹوٹے چلی آ رہی ہے۔ آج بھی بہت سے کھانے اسی طریقے سے بنتے ہیں جیسے سو یا دو سو سال پہلے بنتے تھےاس کے علاوہ اطالوی کھانوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ہر شہر، ہر علاقہ، بلکہ ہر گاؤں کا اپنا ذائقہ اور انداز ہے۔ ۔ یونیسکو ایسی روایتوں کو بہت اہم سمجھتا ہے جو وقت کے ساتھ ختم نہ ہوں۔ میں ایک دفعہ باتوں باتوں میں اپنی پڑوسن لچانا کو کہنے لگا کہ مارکیٹ جا رہا ہوں ناشتے کے لئے جیم ختم ہو گیا ہے۔ اس نے حیران ہو کر پوچھا تم لوگ جیم مارکیٹ سے خریدتے ہو ۔ تمہارے گھروں کی عورتیں کیا کرتی ہیں ۔ ایسی چیزیں تو گھر میں بنانی چاہئے ۔ پھر کچھ دن بعد اس نے مجھے دو تین شیشیاں گھر میں تیار جیم کی تحفے میں دیں ۔ یقین کریں کہ ہر پھل کا ذائقہ محسوس ہوتا تھا ۔ میں نے اسے کہا کہ ہماری مائیں یا دادئیاں اچار وغیرہ ڈالتی تھیں ۔ اور ہاتھ کی سویاں بھی بناتی تھیں لیکن اب یہ روایت دم توڑ چکی ہے آجکل کی لڑکیاں اچار بنانا، سردیوں میں پنجیری بنانا ، میدے کی سویاں بنانا، دال کی وڑیاں بنانا، یہ سب اپنی توہین سمجھتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ جب بازار سے سب کچھ مل جاتا ہے تو گھر میں بنا کر اپنی تعلیم اور ڈگری کا مذاق کیا بنانا۔ وہ ہنسنا شروع ہوگئی ۔ وہ کہنے لگی یہ عجیب منطق ہے ۔ اس طرح تو تمہارے ملک میں مہنگائی کی شرح کبھی نیچے ہی نہیں آتی ہوگی ۔ اگر سب کچھ بازار سے خریدنے جائیں تو وہ صحت کے لئے بھی اچھانہیں ہوتا۔ پھر اس نے مجھے بتایا کہ کسی بھی پاستے کے لئے ا س نے کبھی کوئی پیسٹ نہیں خریدا، کسی بھی ناشتے کے لئے اس نے کبھی کوئی جیم نہیں خریدا ۔ اورکہنے لگی جہاں تک تعلیم کی بات ہے تو میں خود ٹیچر رہی ہوں ۔ لیکن یہ چیزیں بناتے مجھے کبھی شرم نہیں آتی ۔بلکہ میں سمجھتی ہو ں کہ یہ علم تو کتابوں میں بھی نہیں ملے گا ۔ کاش پاکستانی خواتین بھی اس روایت کو اپنا لیں ۔ اور اپنی تہذیب کو بچانے کی کوشش کریں ۔ اس جدیدیت کی دوڑ نے ان سے سب کچھ چھین لیا ہے ۔ ہمارے ہاں جب مغرب کی بات کی جاتی ہے تو بتایا جاتا ہے کہ ان کے ہاں فیملی سسٹم تباہ ہوگیا ، خاندان برباد ہوگئے ۔ روایتیں دم توڑگئیں ۔ پھر یونیسکو کا یہ فیصلہ آجاتا ہے کہ صدیوں پرانے کھانوں تک ترکیبیں انہیں مغرب والوں نے بچا کر رکھی ہوئی ہے تو ہم ایسی خبر ایک کان سے سن کر دوسر ے کان سے نکال دیتے ہیں ۔ عمومی طور پر اٹلی کانام سنتے ہیں پہلا لفظ پیز ا آتا ہے ۔ مگر اٹلی کا ہر کھانا لاجواب ہوتا۔ لیکن مجھے ذاتی طور پر لازانیا پسند ہے ۔اگر آپ لازانیا کھانا چاہتے ہیں تو پلیز کسی بھی پاکستانی ریسٹؤرنٹ سے لازانیا کھا کر اس کی توہین نہ کرنا ۔ لازانیا صرف اٹلی والوں کو بنانا آتا ہے اور وہ بھی کسی ہوٹل سے نہیں بلکہ کسی بوڑھی مائی جی کے ہاتھوں سے بنوا کر کھائیں تو آپ یاد رکھیں گے کہ ذائقہ کسے کہتے ہیں ۔ ویسے لازانیا میں قیمہ استعمال ہوتا ہے تو کسی مائی جی سے بنوانے سے پہلے حلال قیمہ اس تک پہنچا دینا ۔ پھر نہ کہنا بتایا نہیں ۔
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.