Mahmood Asghar

Choudhary

کیا غیر مسلم سے دوستی جائز ہے ِ؟ یکم دسمبر 2025
Download Urdu Fonts
کیا غیر مسلموں سے دوستی کی جا سکتی ہے ؟ حسن کا تعلق مصر سے تھا ۔کہنےلگا کرسمس آتے ہی سوشل میڈیاپر ایک پوسٹ بہت وائرل ہوتی ہے کہ یہود ونصاری ٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ تو کیا غیر مسلموں سے دوستی اور حسن سلوک کیا جا سکتا ہے ۔انکے تہواروں میں تحفے لئے جاسکتے ہیں ۔ انہیں تہواروں کی مبارکباد دی جا سکتی ہے ۔ کیا یہ قرآنی حکم کی نفی نہیں ہے ۔ میں نے اس کا سوال توجہ سے سنا اور اس سے پوچھا کہ اسلامی احکام کی بات بعد میں کرتے ہیں پہلے منطق کی بات کرتے ہیں ۔ تم مجھے یہ بتاؤکیا تم کسی ایسی لڑکی سے شادی کر سکتے ہو جس سے تمہیں محبت نہ ہو؟ اور اگر کسی لڑکی سے تمہاری شادی ہوجائے تو کیایہ ممکن ہے کہ تم اس کے والدین اور رشتہ داروں سے تعلق یا دوستی نہ کر سکو،اس نے نفی میں سر ہلایا میں نے کہا، تو پھر خود سوچوجو اسلام اہلِ کتاب سے شادی کی اجازت دیتا ہے۔ کیا اس سے دوستی کے دروازے خود بخود نہیں کھل جاتے؟ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام شادی کی اجازت دے اور دوستی سے منع کر دے؟ وہ کہنے لگا تو پھر وہ آیت ؟ میں نے کہا کہ قرآن کی کوئی بھی بات سیاق و سباق سے ہٹ کر پڑھیں گے تو غلط فہمیاں عروج پائیں گی ۔ اس آیت میں لفظ دوست ''صدیق'' استعمال ہی نہیں ہوا ۔ ولی استعمال ہوا ہے ۔ یہ یہودو نصاری کو ولی نہ بنانے والی آیت مدینہ کے ایک مخصوص تاریخی و سیاسی پس منظر میں نازل ہوئی، جب کچھ یہودی قبائل معاہدے توڑ چکے تھے، منافقین اندرونی سازشوں میں مصروف تھے اور مسلمانوں کی نئی ریاست کو بیرونی خطرات لاحق تھے۔ اس ماحول میں مسلمانوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ اپنی اجتماعی سلامتی اور اقتدار میں غیر مسلموں کو ''ولی ''یعنی سرپرست نہ بنائیں ۔قرآن نے اس کو عمومی حکم نہیں بنایا بلکہ اللہ تعالی ٰ تو قرآن مجید کی سورۃ الممتحنہ میں ارشاد فرماتا ہے اللہ تمہیں اُن لوگوں سے نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کرتے اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالتے ہیں۔۔ اگر سیرت نبی ﷺکی بات کریں تو اسلام تو دوست کے ساتھ وفاداری کو اتنی زیادہ اہمیت دیتا ہےکہ جب ہمارے پیارے نبی مکرم حضرت محمد ﷺ کو طائف میں کچھ اوباش لڑکوں کی جانب سے پتھر مارمار کر لہولہان کر دیا گیا تو ایسے میں ایک غیر مسلم مطعم بن عدی نے آپ کو پناہ دی۔ آپ ﷺ نے اس کے اس احسان کو عمر بھر یاد رکھا۔ حتیٰ کہ جب بدرکی جنگ میں مکہ والوں کو شکست ہوئی تو کچھ غیر مسلم جنگی قیدی بنا لئے گئے ۔ تو اس موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا ۔۔ اگر (میرا دوست ) مطعم آج زندہ ہوتا اور سفارش کرتا تو میں سب قیدیوں کو چھوڑ دیتا۔ اسی طرح ایک اور واقعہ ہے ۔صحیح بخاری میں ہے کہ ایک یہودی لڑکا آپ ﷺ کے کچھ کام کر دیتا تھا۔ ایک دن وہ دکھائی نہ دیا تو آپ نے اس کی خیریت پوچھی توپتا چلا کہ وہ بیمار ہے۔ آپ ﷺ خود اس کے گھر اس کی تیمار داری کے لئے پہنچ گئے ۔ یہ تو ہوگئی عام غیر مسلموں سے دوستی کی بات اب اس سے ایک قدم اور آگے چلتے ہیں کہ کیاغیر مسلمو ں کے انتہائی کٹر اور مذہبی لوگوں کے ساتھ مکالمہ ، دوستی یا احسان کی کوئی مثال ملتی ہے ۔تو وہ مثال بھی سنت نبوی ﷺ سے ثابت ہے کہ جب 9 ہجری میں نجران کے مسیحیوں کا ایک بہت بڑا وفد آ پ سے مناظرہ کرنے آئے ہوا تھا ۔ یعنی وہ آپ کو غلط ثابت کرنے آیا ہوا تھا ۔ان کی عبادت کا وقت ہوا تو انہوں نے وہاں مسجد نبوی میں اپنے طریقے پر عبادت کرنا چاہی تو صحابہ کرام غصہ میں آگئے مگر آپ ﷺنے منع فرما دیا اور فرمایا انکو کو میری مسجد میں اپنی عبادت کرنے دو ۔۔۔۔فتح الباری اس طرح آپ نے مذہبی رواداری میں اعلی درجہ کے مثال قائم کر کے رہتی دنیا کو بتا دیا کہ مکالمہ اور مناظرہ میں بھی اچھے اخلاق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ اس لئےحسن سوشل میڈیا کو چھوڑ کر خود بھی کچھ تحقیق کرنی چاہئے باقی آئندہ #محموداصغرچودھری



Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام

Admin Login
LOGIN