Mahmood Asghar

Choudhary

روم میں‌شریعت کا خوف ...... 24 نومبر 2025
Download Urdu Fonts
روم میں شریعت کا خوف روم میں مسلمانوں کا ایک سیاسی گروپ سامنے آیا ہے۔ یہ گروپ ایک اطالوی انجینئر فرانچیسکو تیری نے بنایا ہے۔ فرانچیسکو پندرہ سال پہلے مسلمان ہوئے تھے اور اپنا نام عبدالحق رکھا تھا ۔ وہ بائیں بازو کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن اٹالین میڈیا اور ٹک ٹاک پر ایک خوفناک طوفان بپا کر دیا گیا ہے ۔ خواتین ٹک ٹاکرز اور اطالوی سیاستدان چیخ و پکار کر رہے ہیں کہ روم میں مسلمان قبضہ کرنے آگئے ہیں، اب یہاں شریعت نافذ ہوگی، برقعہ رائج ہوگا اور ہماری آزادی سلب ہوجائے گی۔ حالانکہ یہ گروپ نہ تو کوئی باقاعدہ سیاسی جماعت ہے اور نہ ہی اپنا کوئی منشور اب تک جاری کیا ہے۔ ٹی وی پر گھنٹوں کی نشریات اور اسلام کے خلاف ایسا پراپیگنڈہ ہو رہا ہے کہ خدا کی پناہ۔ میرے دوست کارلو کا فون آیا، ڈرا ہوا تھا۔ کہنے لگا، یار! یہ شریعت کیا ہے جو تم نافذ کرنا چاہتے ہو؟ میں نے جواب دیا، یہ نفرت اور خوف بیچنے والوں کا ایک نیا سودا ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔ وہ بولا، تو پھر تم ہی بتا دو کہ اصل میں شریعت ہوتی کیا ہے؟ میں نے کہا کہ دنیا کا ہر معاشرہ کچھ اصول و ضوابط بناتا ہے کہ آپ نے زندگی کیسے گزارنی ہے۔دوستوں ، پڑوسیوں اور معاشرے کے دیگر طبقات میں سے والدین کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے، چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں کا ادب کیسے کرنا ہے۔ ماحولیات میں انسانوں اور دیگر مخلوقات کے ساتھ کیا رویہ رکھنا ہے ۔ البتہ مذاہب میں کچھ اضافی طریقے متعین ہوتے ہیں۔ جیسے کوئی فوت ہو جائے تو اسے دفنانا ہے یا جلانا ہے۔ بچہ پیدا ہو تو اس کے کانوں میں اذان دینی ہے، منڈن کرنا ہے یا بپتسمہ دینا ہے۔ شادی چرچ کے پادری کے سامنے ہوگی، مندر میں پھیرے ہوں گے یا مولوی اور گواہوں کے سامنے قبول ہے قبول ہے کہا جائے گا۔ یہ ہر مذہب کے اپنے اصول ہوتے ہیں، اور ان اصولوں کومذہب کی اصطلاح عربی میں شریعت کہلاتی ہے ۔ اسلام بھی اپنے ماننے والوں کو روزمرہ زندگی کے اصول بتاتا ہے۔صفائی اور طہارت کیسے اختیار کرنی ہے، نماز، روزہ اور حج سمیت دیگر عبادات کا طریقہ کیا ہوگا۔ البتہ اسلام کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ انفرادی معاملات کے ساتھ ریاستی معاملات میں بھی راہنمائی دیتا ہے کہ زکوٰۃ یعنی ٹیکس کتنا ہوگا، وراثت کیسے تقسیم ہوگی، نکاح و طلاق کے معاملات کیسے ہوں گے۔ اسی طرح معاشرتی برائیوں کے حوالے سے شرعی عدالتوں میں ججوں کے لیے سزاؤں کا ایک قانونی فریم ورک بھی موجود ہے، جسے شریعت لَا کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں بھی شریعت کا پچانوے فیصد حصہ انسان کی ذاتی زندگی سے متعلق ہے، اور صرف پانچ فیصد سزاؤں سے متعلق ہے۔ لیکن یورپی میڈیا بڑی چالاکی سے انہی پانچ فیصد پر لوگوں کو ڈراتا ہے کہ اگر مسلمان الیکشن جیت گئے تو یہ اپنے اصول لاگو کر دیں گے۔ میڈیا آپ کو کبھی نہیں بتائے گا کہ دنیا کے ستاون اسلامی ممالک میں ان سزاؤں کا نفاذ تقریباً کہیں نہیں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ شریعت کوئی اقوالِ زریں کی لسٹ نہیں ہے کہ کوئی بھی اٹھا کر اپنی مرضی سے نافذ کر دے۔ ہر معاملے میں فقہی تشریحات مختلف ہوسکتی ہیں جانتے ہو کیوں؟کیونکہ اسلام ریاستی نمائندوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے معاملات باہمی مشاورت سے طے کریں۔ قرآن میں حکم ہے “ان کے باہمی معاملات باہمی مشاورت سے طے ہوتے ہیں۔” لندن میں تیسری بار ایک مسلمان میئر صادق خان منتخب ہوا ہے۔ نیویارک جیسے شہر میں ایک مسلمان میئر زہران ممدانی منتخب ہوا ہے۔ بتاؤ، کیا انہوں نے کسی شہر میں کوئی نیا قانون لاگو کیا ہے جو شہریوں کی مشاورت کے بغیر بنا دیا گیا ہو؟ دنیا کے کسی بھی اسلامی جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ قانون بنانا ریاست کا حق ہے، اور یہ حق وہ اپنے شہریوں کی مشاورت سے استعمال کرتی ہے۔ کوئی باہر سے آکر اپنا قانون کسی پر نہیں ٹھونس سکتا۔ تو بھائی! اتنا خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر آسان لفظوں میں سمجھنا چاہتے ہو تو شریعت وہی اصول ہیں جو گھروں میں نانی اماں پوتوں نواسوں کو سمجھاتی تھیں۔۔ بیٹا! کبھی جھوٹ نہ بولنا، چوری نہ کرنا، کلاس میں کسی کو تنگ نہ کرنا، کسی سے جھگڑا نہ کرنا۔ یہی اصول جب مذہب دیتا ہے تو اسے اس مذہب کی شریعت کہتے ہیں۔ کسی بھی مسیحی عربی یا یہودی عربی سے پوچھ لینا، وہ بھی اپنے مذہبی اصولوں کو عربی میں اپنی شریعت ہی کہتے ہیں ۔ لیکن آج تک کبھی مغربی میڈیا نے کسی مسیحی سیاسی پارٹی کویہ طعنہ نہیں دیا کہ تم سیاست میں اس لیے آئے ہو کہ عیسائی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہو۔ ایسا تعصب صرف ایک مسلمان سیاستدان کے خلاف دکھایا جاتا ہےاور یہ نری جہالت اور خوف پھیلانے کی خواہش کے سوا کچھ نہیں۔ میرے آنے والی اٹالین کتاب میں یہ باب بھی شامل ہوگا تاکہ بچوں کے ذہن میں صحیح اصطلاحات کی تصور اچھے طریقے سے بٹھایا جا سکے اگر کوئی اہل علم اس تحریر میں راہنمائی دینا چاہئے تو بتا سکتا ہے #محموداصغرچودھری



Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام

Admin Login
LOGIN