Mahmood Asghar

Choudhary

منافقت اور کیمرے کا شوق ..... 21 نومبر 2025
Download Urdu Fonts
جہالت یا منافقت فیصلہ آپ کا آپ شاخوں کو جتنا مرضی کوس لیں، جب تک برائی کی جڑ کو نہیں پکڑیں گے، ایسے مسائل اٹھتے ہی رہیں گے جیسا کہ اٹلی میں ہوا۔ بابا جی اب میڈیا سے معذرت کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ پوری ویڈیو دیکھیں تو وہ ایک اطالوی خاتون صحافی کو بڑے شوق سے اپنے موبائل سے اپنی تصاویر دکھا رہے تھے۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ امام ہیں؟ تو وہ انکار نہیں کرتے بلکہ فخر سے کہتے ہیں ایو فارے پریگارے ۔ ترجمہ آپ خود کرلیں پھر وہی خاتون پوچھتی ہے کہ آپ عورتوں کی آزادی کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اس کے جواب میں بابا جی کے لبوں سے جو "پھول" جھڑتے ہیں، شاید وہ یہ بھول چکے تھے کہ وہ ایک باشعور، بااختیار اور تعلیم یافتہ صحافی سے گفتگو کر رہے ہیں۔ وہ اسے نہ صرف اپنی تصویریں دکھا رہے تھے بلکہ یہ بھی بتا رہے تھے کہ وہ شہر کے میئر کے ساتھ بھی تصویر کھنچوا چکے ہیں ۔ اور وہ تصویر بھی مسجد میں بنی ہوئی ہے۔اگر آزاد عورتیں واقعی ان کی نظر میں بد کردار ہیں، تو ایک آزاد خاتون صحافی کے ساتھ بیٹھ کر اپنی تصویریں کس نیت سے دکھا رہے تھے؟ یہ خود ان کے اپنے معیار کے مطابق بھی گناہ نہیں تو کیا ہے؟ بعد میں یہی صحافی اپنے پروگرام میں شہر کے میئر کو لائیو کال کرتی ہے اور کہتی ہے کہ ۔آپ کو شرم آنی چاہیے کہ آپ ایک ایسے شخص کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویر بنواتے ہیں جو عورتوں کے بارے میں ایسے خیالات رکھتا ہے۔میئر بے چارہ خیر سگالی میں ہی رگڑا گیا ۔ آئندہ وہ مسجد جانے سے پہلے یقیناً کئی بار سوچے گا۔ خالد محمود، جو اوسلو کی اسمبلی کے ممبر رہے ہیں اور اس وقت سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے موجود ہیں، صبح صبح مجھے ان کا میسج آیا ۔ چودھری صاحب، آپ کا وی لاگ سنا۔ اس مسئلے کو اٹھائیں کہ ہماری کمیونٹی منافقت کا شکار کیوں ہے۔ ایک طرف اسی سسٹم سے فائدے اٹھاتی ہے اور دوسری طرف یورپی معاشرے کے خلاف گہرا تعصب رکھتی ہے۔۔ چونکہ پیغام میرے محبوب نبی ﷺ کی سرزمین سے آیا تھا، اس لیے میں نے وعدہ کیا کہ ضرور لکھوں گا۔ تو مسئلے کی بنیادی جڑ یہ ہے کہ ہم ایک ملٹی کلچرل معاشرے میں رہتے ہیں، مہنگی مسجدیں بھی بناتے ہیں، لیکن وہاں اپنے امام کے طور پر ایسے شخص کا انتخاب کرتے ہیں جسے سماجیات، اخلاقیات اور عمرانیات کی الف بے تک کا علم نہیں ہوتا۔ جو آج کی دنیا سے ہزار سال پیچھے کھڑا ہے۔یا پھر ہم مذہب سوشل میڈیا سے لیتے ہیں ، ایسے مولوی، ایسے قاری سے جو کسی دوسرے نظریے والے کے سامنے کبھی بیٹھا تک نہیں۔ ہمارے ہاں ایسے مبلغین کی بھی کمی نہیں جو سمجھتے ہیں کہ لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اسے دوسرے کے گھر بھیجنے کی تیاری شروع کر دینی چاہیے، کہ وہ کون سی انسان ہے جس کی اپنی مرضی، اپنی رائے یا اپنا مستقبل ہو سکتا ہے۔ایسے مولوی بھی کم نہیں جو کہتے ہیں کہ جو عورت شادی نہ کرے وہ “پبلک پراپرٹی” ہے۔ یا وہ جو کہتے ہیں کہ عورت بغیر محرم کے گھر سے نہیں نکل سکتی تو کیا ان کے مطابق اگر کسی عورت کا بھائی، شوہر یا باپ موجود نہ ہو تو وہ نہ جاب کر سکتی ہے، نہ تعلیم حاصل کر سکتی ہے اور نہ سبزی لینے جا سکتی ہے؟او ر پھر وہ مولوی بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ میں تمہاری چارچار سال کی چار بچیوں سے شادی کروا دوں گا۔ یعنی عورت صرف ایک آبجیکٹ ہی تو ہے یہ ساری بچگانہ تشریحات آپ اٹلی جیسے ملک میں کیسے لاگو کریں گے، جہاں وزیراعظم ایک عورت ہےاور وہ شادی شدہ بھی نہیں؟ اگر آپ اس کی چوائس کو “بدکرداری” کہتے ہیں تو آپ کو شرم آنی چاہیے کہ آپ اسی عورت کے دستخطوں سے جاری شدہ قانون، صحت، روزگار اور ریاستی سہولتیں استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ کو مسئلہ ہے تو یہاں سے کوچ کر جائیں۔ آپ کے مولوی کی تشریح اس معاشرے کے لیے نہیں ہے۔بلکہ اب تو آپ پنجاب بھی نہیں جا سکتے، وہاں بھی سربراہ ایک عورت ہے۔ پورتو میجورے کی کمیونٹی نے اس معاملے کو بہت اچھے طریقے سے سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔ محمد ارشد نے میڈیا کو مضبوط موقف دیا، اور مسلمان خواتین نے بڑے بھرپور طریقے سے مظاہروں میں شرکت کر کے اس غلط سوچ کی مذمت کی۔لیکن پورے یورپ میں ایک پالیسی ہونا ضروری ہے۔ ایسے مذہبی رہنما آگے لانے ہوں گے جو قرآن مجید کے اس حکم کی پیروی کریں کہ "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ" (سورۃ النحل، آیت 125) ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔ ہمارے لوگ معاشرے کی نزاکت نہیں سمجھ رہے۔ اٹالین میڈیا ان دنوں خوف اور نفرت کے جنون میں مبتلا ہے۔ روم میں مسلمانوں نے ایک سیاسی جماعت بھی بنائی ہے، اور اسے ناکام کرنے کے لیے ٹی وی پر ایسی بحثیں چلا دی گئی ہیں کہ “یہ لوگ روم پر قبضہ کرنے آرہے ہیں”، “یہ شریعت نافذ کریں گے”، “یہ عورتوں کی آزادی ختم کر دیں گے”۔ ایسے ماحول میں میری گزارش ہے کہ خدارا سنبھل جائیں۔اپنی جہالت سے دوسروں کی زندگیاں عذاب نہ بنائیں۔اپنے تنگ نظر خیالات اور ڈیڑھ اینٹ کی مسجد والے مولوی کی تعلیمات اپنے تک ہی محدود رکھیں، ان کا برملا اظہار نہ کریں۔اگر آپ کو دین کا فہم نہیں، تو منہ بند رہیں۔کیونکہ آپ کا ایک جاہلانہ بیان اسلام کے آفاقی پیغام کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔آپ دوسروں کے نظریات کو گالی دیں گے ، تو بدلے میں وہ بھی آپ کی اقدار کو گالی دیں گے۔ میں نے اس سلسلے میں اٹالین زبان میں ایک کتاب پر کام شروع کر دیا ہے جس میں اسلامی تشریحات کے بارے مغرب میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ دعا کریں کہ اللہ کامیابی دے۔البتہ میری اٹلی کی تمام تنظیموں سے درخواست ہے کہ مذہبی رواداری، اخلاقی اقدار اور مخالف نظریات کے احترام پر ورکشاپس کا اہتمام کریں۔جس ملک میں رہتے ہیں، اس کے قوانین کا احترام کرنا ضروری ہے۔ورنہ یہ جاہل لوگ پاکستانیوں پر ویزوں کی پابندی لگوا کر ہی دم لیں گے۔ #محموداصغرچودھری



Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام

Admin Login
LOGIN