Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
سیلف میڈ لوگوںکا ویلنٹائین 14 فروری 2026
Download Urdu Fonts
سیلف میڈ لوگوں کا ویلنٹائین اس دن دفتر غیر معمولی طور پر مصروف رہا ۔مجھے اب تھکان محسوس ہونا شروع ہوگئی تھی ۔ میں نے انٹر کام پر سیکرٹری سے پوچھا اور کتنے باتی رہ گئے ہیں ؟ وہ بولی بس ایک لڑکی ہے ۔ میں نے کہا اچھا اسے بھیج دیں ۔ چند لمحوں بعد دروازے پر بہت ہلکی سی دستک ہوئی، جیسے کسی نے ہوا کو چھوا ہو۔ دروازہ آہستہ سے کھلا اور ایک مدھم سی آواز ابھری: “پرمیسو۔۔ اجازت ہے ؟ میں نے نظر اٹھائی۔ اور پھر جیسے وقت وہیں رک گیا۔جیسے شام کی آخری کرنیں نرم دہلیز پر آن کھڑی ہوئی ہو۔ جیسے روشنی کی یہ کرنیں کمرے میں وہ سکون گھولنے آپہنچی ہوں جن میں تپش نہیں ہوتی ۔ یہ کوئی عام لڑکی نہیں تھا ۔ لگا کوئی بے بی ڈول ہے ۔ کوئی گڑیا جوکسی بچے کے ہاتھوں سے نکل کر رستہ بھول گئی ہو اور میرے دفتر آگئی ہو ۔مائیکل اینجیلو کا کوئی ایسا سٹیچو جس شاہکار پر زور سے چلایا ہے کہ چل اب چل کے دکھا اور اس سٹیچو میں جان پڑگئی ہو ۔ ا سکی آنکھیں نیلی تھی ۔ ایسی نیلی جیسے برف پگھلنے کے بعد دریا کا پانی، اس کے بال سنہری گھنگریالے تھے جیسے دھوپ نے انہیں چُوم کر رنگ دیا ہو،اس کی رنگت سفید تھی اور چہرے پر عجیب سی متانت، جیسے خاموشی میں کوئی وقار بول رہا ہو۔ اس کے چہرے پر وہی معصومیت تھی جو کیوپڈ کے اس بچے کے مجسمے میں ہیں جس کی آنکھوٍں پر پٹی اور ہاتھوں میں تیر ہو ۔ اس کی نگاہ گھائل کر دینی والی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ اس سے پہلے میں نے خوبصورت لڑکیاں نہیں دیکھیں تھیں۔ یورپ میں ہر دوسری لڑکی کی آنکھیں نیلی اور بال بلانڈ ہوتے ہیں ۔ لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے کبھی کسی سفید چہرے نے متاثر نہیں کیا تھا ۔ حسن میں کشش کے معاملے میں ہمیشہ میں پاکستانی ہی رہا ۔ براؤن ہی میرا فیورٹ تھا ۔ یورپی گوری رنگت نے مجھے کبھی شدت سے متوجہ نہیں کی تھی ۔ نظریں ٹھہرتی نہیں تھیں۔ان میں حسن تھا مگر کشش نہیں۔ مگر آج… آج کچھ مختلف تھا۔ اس کی آواز میں وہ کھنک تھی جس کے بارے میں ماہرین کہتے ہیں کہ کچھ آوازوں کی فریکوئنسی دل کے تار چھیڑ دیتی ہے : اس نے دوبارہ کہا “کیا میں اندر آسکتی ہوں ” مجھے یوں لگا جیسے میں خواب میں ہوں اور کوئی آہستہ سے جھنجھوڑ کر کہہ رہا ہو، “جاگ جاؤ، یا میں کسی ہسپتال کے بیڈ پر نیم بے ہوشی کی حالت میں ہوں اور کسی نرس کی آواز میرے کانوں تک تو پہنچ رہی ہو لیکن مجھے سمجھ نہ آرہی ہو کہ کیا جواب دینا ہے …” میں نے بمشکل کہا'' بیٹھیے ": “سی پریگو .” وہ آ کر میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ میں نے اسے غور سے دیکھا تو بچپن کی دادی اماں کی کہانیاں یاد آگئیں۔ جن میں وہ کہا کرتی تھیں: “پتر، کوہِ قاف کے اُس پار پریاں بستی ہیں، نیلی آنکھوں والی، سنہری بالوں والی۔ لمبی پلکوں والی ''۔ میں سمجھتا تھا وہ محض کہانیاں ہیں۔ مگر آج وہ کہانی میرے سامنے بیٹھی تھی۔لمبی پلکوں کے بارے میرے خیال تھا کہ یہ صرف باربی ڈال کی ہوتی ہیں جسے بازو پر لٹائیں تو اس کے آنکھیں بند ہوجاتی ہے ۔ ایسی پلکیں میں نے حقیقت میں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ اس کے حسن میں ایک عجب بات تھی ۔ اس میں نمائش نہیں تھی۔ ایک وقار تھا۔ سنجیدگی تھی۔ جیسے سحر کی پہلی کرن میں ہوتی ہے ۔ وہ شگفتگی تھی جو شبنم میں ترپھول میں ہوتی ہے ۔ اسے دیکھ کرکوئی غلط خیال نہیں آتا تھا بلکہ بس حرف دعا ہی یاد آتا تھا ۔ ” وہ البانیہ سے تھی۔ اس کا نام ڈورینا تھا ۔ ڈورینا کا مطلب ہوتا ہے خدا کا تحفہ ۔ وہ اپنے کاغذات کی تجدید کے لیے آئی تھی ۔ میں فائل کھولے بیٹھا تھا مگر الفاظ دھندلا رہے تھے۔ اس کا پاسپورٹ میرے ہاتھ میں تھا ۔ اس کی تاریخِ پیدائش میرے سامنے لکھی تھی، مگر نظر جیسے دھندلا گئی ہو۔ میں نے پوچھا: “آپ کی تاریخِ پیدائش؟” وہ ہلکا سا مسکرائی۔ اس مسکراہٹ میں جیسے میری چوری پکڑی گئی ہو۔ میں نے دل ہی دل میں توبہ کی۔ خود کو یاد دلایا کہ مجھے پروفیشنل ازم کا خیال رکھنا ہے ۔ میرے دل میں طوفان موجزن تھا ۔ دماغ کہتا تھا کہ اسے کا کام فوراختم کروں اور اسے جانے کا کہوں اور ایک خواہش بھی کہ کچھ دیر اور بیٹھی رہے۔ ائرکنڈیشن روم میں مجھے ٹائی ڈھیلی کرنی پڑی ۔ حسن کا وہ رعب تھا جیسے وہ نہیں میں کسی انٹرویو روم میں بیٹھا ہوں اور ابھی کنفیوز ہوکر پانی کا گلاس مانگوں گا کام مکمل ہوا تو اس نے اچانک پوچھا ۔ ''سر… آپ مسلمان ہیں؟'' میں نے کہا: “الحمدللہ۔” وہ مسکرائی۔ اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی آگئی۔اس کے مسکرانا ایسے تھا جیسا کئی کلیاں ایک ساتھ کھل گئی ہوں ۔ یوں لگا جیسے گلشن میں ایک ساتھ کئی پھول کھل گئے ہوں۔ یہ سوال عجیب تھا۔ آج تک کسی سائل نے مجھ سے ایسا نہیں پوچھا تھا۔ مگر اس لمحے اس کے چہرے کی چمک میں مجھے لگا کہ صرف میرے دل میں ہی طوفان نہیں تھا… شاید اس کے دل میں بھی کوئی ہلچل تھی۔میں نے کنکھیوں سے دیکھا ۔ اس کے نظریں میرے چہرے پر بھی اتنی ہی جمی ہوئی تھیں ۔ وہ چلی گئی۔ دروازہ بند ہوا۔ایسے لگا جیسے طوفان گزر گیا ہوجس کے بعد کی خاموشی زیادہ بھاری تھی۔ اگلی صبح میں دفتر پہنچا تو پہلا سائل ایک ستر سالہ بزرگ تھے۔ مسکراتے ہوئے اندر آئے۔ میں نے پوچھا: “جی فرمائیے؟” وہ ہنسنے لگے۔ “دراصل میرا کوئی کام نہیں۔ میں توبس آپ کو دیکھنے آیا ہوں۔” میں حیران ہوا۔ وہ بولے: “ڈورین میری پوتی ہے۔ یتیم بچی ہے، میں ہی اسے اٹلی لایا تھا۔ ہم مسلمان ہیں۔ میں نے اس کے سامنے ایک ہی شرط رکھی تھی کہ بیٹا، اگر شادی کرنا تو کسی مسلمان سے کرنا۔ اور جب کوئی مسلمان پسند آئے تو سب سے پہلے مجھے دکھانا۔ اگر مجھے پسند آیا تو ہی منظوری دوں گا ۔'' میں نے پوچھا آپ یہ سب مجھے کیوں بتا رہے ہیں ''” وہ بولے : “کل شام وہ گھر پہنچی تو کہنے لگی، دادا ابو، میں نے ایک مسلمان نوجوان پسند کرلیا ہے۔میں شادی کروں گی تو صرف اسی سے ۔” میرے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا۔ میں نے آہستہ سے کہا: “بابا جی… آپ کی محبت کا شکریہ۔ مگر میری پچھلے مہینے ہی پاکستان میں منگنی ہوچکی ہے۔” ان کے چہرے پر مایوسی اتر آئی۔ وہ خاموشی سے چلے گئے۔ کچھ دیر بعد فون بجا۔ آواز پہچانی ہوئی تھی۔ “کیا واقعی… اب کچھ نہیں ہوسکتا؟ کیا بہت دیر ہوگئی ہے؟ '' میں نے کہا ہاں اب کچھ نہیں ہوسکتا وہ بولی ''زندگی میں پہلی بار مجھے کوئی پسند آیا ہے… اور وہ میرے دادا جی کی خواہش کے مطابق مسلمان بھی ہے…”میرے دادا جی میرے ویلنٹائین ہیں میں ان کی کوئی خواہش نہیں ٹال سکتی '' میں خاموش رہا۔ اس نے پوچھا: “کیا آپ اپنی منگیتر سے بہت محبت کرتے ہیں؟ کیا وہ آپ کی ویلنٹائن ہے؟” میں نے کہا: “میں نےتو اسے دیکھا تک نہیں۔ وہ میری ماں نے پسند کی ہے ۔ کیا آپ اپنی منگنی توڑ نہیں سکتے نہیں ہم پاکستانیوں کی ویلنٹائین ہماری ماں ہوتی ہے اور ہم بھی اپنی ماں کو شرمندہ نہیں کرواتے ۔ ا سکی زبا ن کا مان رکھتے ہیں ” اس کے بعد کبھی اس کا فون نہیں آیا۔ وہ کبھی دوبارہ دفتر نہیں آئی۔ مگر کبھی کبھی شام ڈھلتے دروازے پر آخری سائل کی دستک زور سے چوٹ لگاتی ہے کہیں دروازے پر وہ نہ ہو امجد اسلام امجد سے معذرت کے ساتھ سیلف میڈ لوگوں کا یہ المیہ بھی ہے کہ ہمارے نصیب کی محبتیں۔۔ سب ہی ہاتھ آتی ہیں سب ہی مل بھی جاتی ہیں مگر وقت پر نہیں ملتیں وقت پر نہیں آتیں فصل گل کے آخر میں پھول ہمارے کھلتے ہیں ہمارے صحن میں سورج دیر میں نکلتے ہیں #محموداصغرچودھری
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.