Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
جانوںکا قرض..... 13 اپریل 2026
Download Urdu Fonts
دنیا کے نقشے پر ایک ملک ایسا بھی ہے کہ دنیا کو اس کی یاد اس وقت آتی جب وہ کسی بہت بڑے بحران میں پھنس جاتی ہے اور اس ملک کا نام ہے پاکستان۔ اس کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ تاریخ کارخ موڑنے والے ایک عظیم دروازے جیسی ہے۔جس پر دستک اس وقت دی جاتی ہے جب دنیا کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے
اس کے قیام کے بعد سے دنیا جب بھی کسی ہولناک بحران یا عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچی، تو سب طاقتوں کی مغرور نظریں خود بخود اس سرزمین کی طرف مڑ گئیں۔پاکستان نے بھی اپنی جغرافیائی اہمیت اور کمال مہارت سے دنیا کو کئی بار بڑی تباہی سے بچایا، مگر بدلے میں ہمیں ہمیشہ عالمی بے حسی اوراحسان فراموشی کا سامنا کرنا پڑا۔
مثلاجب چین اور امریکہ کے درمیان جمی برف کو پگھلانے اور ان دو بڑی طاقتوں کو قریب لانے کی ضرورت تھی، تو اس وقت پاکستان نے ایک پل کا کردار ادا کر کے عالمی سیاست کا رخ بدل دیا۔ لیکن افسوس کہ اس عظیم احسان کو بعد میں یکسر فراموش کر دیا گیا۔ یعنی جب 1971 میں ہمیں دنیا کی ضرورت پڑی تو بڑے بزرگ کتابوں لکھتے رہے کہ بہت جلد ہمارے سفید دوست اور زرد دوست ہماری مدد کو پہنچیں گے لیکن ہم بحری بیڑے اور چپٹے ناک والوں کے سہارے کے بس منتظر ہی رہے اور ملک دو حصوں میں بٹ گیا ۔ واجاں ماریاں بلایا کئی وار میں کسی نے میری گل نہ سنی والا حساب ہوگیا
اسی طرح جب دنیا سوویت یونین جیسے عظیم خطرے سے لرز رہی تھی اور سرخ ریچھ کی ہیبت سے مغرب سے لے کر عرب دنیا تک سب تھرتھرا رہے تھے، تو ایک بار پھر دنیا کی تمام نظریں پاکستان کی طرف مڑ گئیں۔ ہم نے وہ جنگ لڑی جو ہماری تھی ہی نہیں، ہم نے اس دیو ہیکل دشمن کو تنہا شکست دے کر دنیا کو اس خطرے سے نجات دلائی۔ لیکن اس عظیم فتح کے نتیجے میں پاکستان کے حصے میں کلاشنکوف، فرقہ پرستی اور منشیات کا زہر آیا جس نے ہماری ایک پوری نسل کو دیمک کی طرح چاٹ لیا۔ گند پھیلانے والے تو یہاں سے اپنا دامن بچا کر بھاگ گئے، مگر ہم اپنی بربادی کا بوجھ آج تک اپنے کندھوں پر اٹھائے پھر رہے ہیں
اسکے بعد نائن الیون ہوا تو ساری دنیا نے ملکر دہشت گردی کو ایک عالمی خطرہ قرار دیا اور ایک بارے پھر دنیا نے پھر پاکستان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ہم نے اس جنگ میں 80 ہزار پاکستانیوں کی جانوں کا نذرانہ دے کر دنیا کو اس عفریت سے بچایا، مگر اس کا صلہ ہمیں "ڈو مور" کے طعنوں، اسامہ بن لادن کے معاملے پر الزام تراشیوں اور ہمارے ایٹمی پروگرام پر "اسلامی بم" کی چھاپ لگا کر دیوار سے لگانے کی صورت میں ملا۔ آج وہی افغانی جن کے لئے ہم ساری دنیا سے لڑگئے اور جن کو اپنے گھر میں پناہ دی وہی ہمیں اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں اور ہمارے خلاف جنگ میں جو وہ اسلحہ استعمال کرتے ہیں وہ اسی نیٹو کا ہے جو ہمیں یہاں تنہاچھوڑ کر بھاگ گئی تھی ۔
عالمی سیاست کا یہ کیسا تضاد ہے کہ دنیا نے کشمیر کے سلگتے ہوئے مسئلے پر کبھی پاکستان کے اصولی موقف کو وہ عزت اور اہمیت نہیں دی جس کا وہ حقدار تھا، بلکہ ہمیشہ بھارت کی پیٹھ تھپتھپائی گئی۔ آج بھی جب مشرقِ وسطیٰ کی آگ پوری دنیا کو لپیٹ میں لینے کو ہے اور کوئی ملک بیچ میں آنے کی ہمت نہیں کر رہا، تو یہ پاکستان ہی ہے جو تنہا کبھی سعودی عرب کو منانے کی کوشش کر رہا ہے، کبھی قطر کی منتیں کر رہا ہے اور کبھی دنیا کے وزرائے خارجہ کو اکٹھا کرنے کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہے۔ کبھی ایران کو فون کرتا ہے تو کبھی امریکہ کو منانے کی کوشش کر تا ہے ہم ان ممالک کے لیے امن کی بھیک مانگ رہے ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے دشمن بھارت کے ساتھ گہرے دفاعی اور معاشی تعلقات میں جڑے ہوئے ہیں۔جو امریکہ کو ایک ٹریلین کی سرمایہ کاری دیتے ہیں اورہم ایک ایک بلین کے قرضے کے لئے بھی یوں دیکھتے ہیں جیسے بھیک دے رہے ہوں ۔ یہ موضوع دراصل سیاست اور سفارت کاری کے طلباء کے لیے ایک گہرا تحقیقی سوال ہونا چاہیے کہ آخر پاکستان کے نمک میں کیا خرابی ہے کہ اسے کھانے والے ہمیشہ نمک حرام ہی ثابت ہوتے ہیں؟
لیکن پھر میں مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق پاکستان سے ہے ۔ کیونکہ مجھے اشفاق احمد کا وہ جملہ یاد آیا کہ "بچہ! پیسوں کا قرض تو ادا ہو جاتا ہے لیکن انسانی جانوں کا قرض کبھی ادا نہیں ہوتا"۔ مجھے فخر ہے کہ میراتعلق اس سرزمین سے ہے جس پر آئی ایم ایف اور عالمی اداروں کا جتنا بھی مالی قرض ہو، لیکن اس پر انسانی جانوں کا قرض باقی دنیا کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔
ہم نے کبھی کسی ملک کو اجاڑا نہیں بلکہ ہمیشہ بسانے کی کوشش کی۔ بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگوں کو بھی پاکستان نے انسانیت کی خاطر چند دنوں میں ختم کرنے کی روایت قائم کی۔ دنیا کو جب بھی، جہاں بھی امن کی ضرورت محسوس ہوئی، پاکستان نے اپنا لہو دے کر اس پیاس کو بجھایا۔ مالی طور پر ہم بھلے کمزور ہوں، لیکن اخلاقی طور پر ہم اس دنیا کے محسن ہیں جو ہمیں مٹانے کے درپے رہتی ہے۔
پاکستان زندہ باد۔
#محموداصغرچودھری
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.