Mahmood Asghar

Choudhary

ملکہ عالیہ ..... 31 مارچ 2026
Download Urdu Fonts
‎یہ واقعہ 2015 کا ہے۔ جیرمی کوربن پہلی بار برطانیہ کی لیبر پارٹی کا لیڈر بننے کے بعد ایک سرکاری تقریب میں شریک ہوا جہاں برطانوی ملکہ الزبتھ بھی موجود تھیں۔ اس تقریب کی پرانی روایت یہ ہے کہ مرد ملکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اس کا ہاتھ چومتے ہیں یا کم از کم احترام میں سر ضرور جھکاتے ہیں۔ مگر جیرمی کوربن نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس نے نہ گھٹنے ٹیکے، نہ ہاتھ چوما، نہ سر جھکایا۔ وہ سیدھا کھڑا رہا۔ وجہ؟ اس کا کہنا تھا کہ وہ نظریاتی طور پر بادشاہت اور اس سے جڑی روایات پر یقین نہیں رکھتا، اس لیے وہ کسی انسان کے سامنے جھک نہیں سکتا، چاہے وہ ملکہ ہی کیوں نہ ہو۔
برطانیہ میں ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ میڈیا میں بحث شروع ہوگئی۔ کچھ اخبارات نے اسے بدتمیزی کہا، کچھ نے اسے اصولی سیاست قرار دیا۔ مگر اس سارے شور شرابے کے باوجود جیرمی کوربن کے خلاف نہ کوئی مقدمہ بنا، نہ جرمانہ ہوا، نہ اسے سیاست سے نکالا گیا، نہ اس پر کوئی پابندی لگی۔ حالانکہ کہ برطانیہ میں ملکہ موجود ہے، باقاعدہ آئینی ملکہ، مگر یہاں ایسا کوئی قانون نہیں کہ اگر کوئی شخص ملکہ کے سامنے سر نہ جھکائے تو اسے سزا دی جائے۔
اب ذرا اپنے ملک پاکستان کو دیکھیے۔ یہاں ایک کرکٹر نسیم شاہ نے ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر طنزیہ انداز میں وزیراعلیٰ مریم نواز کو “ملکہ عالیہ” کہہ دیا، اور اس بات پر پی سی بی کی جانب سے ان پر دو کروڑ روپے جرمانہ کر دیا گیا۔
ذرا برطانیہ اور پاکستان کا موازنہ کر کے دیکھیں برطانیہ میں ایک حقیقی ملکہ تھی ، یہاں ایک جمہوری وزیراعلیٰ، مگر برداشت کا فرق دیکھیے۔ وہاں ملکہ کے سامنے نہ جھکنے والا آدمی قومی سیاست کا بڑا لیڈر رہتا ہے، اور یہاں ایک طنزیہ جملہ کسی کھلاڑی پر کروڑوں کا جرمانہ بن جاتا ہے۔
اس بات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ آپ کھلاڑیوں کے لیے اصول بنانا چاہتے ہیں ۔ ضرور اصول بنائیے، ضرور بنائیے کہ کھلاڑی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیں، مگر کیا دنیا کے کسی جمہوری ملک میں صرف ایک طنزیہ جملے پر اتنی بڑی سزا دی جاتی ہے؟ جمہوریت میں وزیراعظم، صدر، وزرائے اعلیٰ سب پر تنقید ہوتی ہے۔ اس لیے ہوتی ہے کیونکہ وہ عوام کے عہدے ہوتے ہیں، مقدس ہستیاں نہیں ہوتے۔ جب تنقید پر جرمانے اور طنز پر سزائیں شروع ہو جائیں تو پھر جمہوریت نہیں رہتی، پھر لوگ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہاں بادشاہت ہے، اور بادشاہت میں بادشاہ یا ملکہ کی توہین کی سزا ہوا کرتی ہے۔ ‎خطرہ یہ نہیں کہ ایک کھلاڑی کو جرمانہ ہوگیا۔ خطرہ یہ ہے کہ اس سوچ کو جرمانہ نہیں ہوا جس سوچ میں حکمران خود کو عوام سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے فیصلے آزادیٔ اظہارِ رائے کو کمزور کرتے ہیں، معاشرے میں خوف پیدا کرتے ہیں، اور دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان میں تنقید برداشت نہیں کی جاتی۔ اور تاریخ گواہ ہے، جہاں تنقید بند ہو جاتی ہے، وہاں غلطیاں بولنا شروع ہو جاتی ہیں۔
اس جرمانے والے نوٹس کو واپس ہونا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ ایک وارننگ سے معاملات حل ہوجانے چاہیے مریم نواز کو ا س بات پر خود نوٹس لینا چاہئے یا پھر وہ تسلیم کریں کہ وہ ملکہ عالیہ ہیں لیکن ایسا تسلیم کرنے سے بھی اس کھلاڑی پر کوئی قانونی سزا لاگو نہین ہو سکے گی کیونکہ جیرمی کوربن والا واقعہ بتاتا ہے کہ برطانیہ کی ملکہ بھی کوئی سزا نہین دلوا سکی تھی
#محموداصغرچودھری



Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام

Admin Login
LOGIN