Mahmood Asghar

Choudhary

کیا اسلام کم عمری کی شادی کی رعغیب دیتا ہے ... 4 اپریل 2026
Download Urdu Fonts
میلانیا نے اپنے موبائل فو ن پر ایک خبر دکھاتے ہوئے انکشاف کیا، "تمہیں معلوم ہے؟ حال ہی میں اٹلی کے کچھ صحافیوں نے ایک مسجد میں 'اسٹنگ آپریشن' کیا ہے۔ ایک امام صاحب کہہ رہے تھے کہ نو سال کی بچی سے شادی ہو سکتی ہے۔ اس پر تو یہاں کی تارکینِ وطن مخالف جماعتوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایسے خیالات رکھنے والے اماموں کو فوراً ڈی پورٹ کیا جائے۔"
میں نے مسکراتے ہوئے کہا، "سچ پوچھو تو میں ان جماعتوں کے اس مطالبے کی بھرپور تائید کرتا ہوں! ان موصوف کو واقعی ملک بدرکر دینا چاہیے۔ لیکن ایک مسئلہ ہے بے چارے کو ڈی پورٹ کر کے بھیجیں گے کہاں؟ پاکستان سمیت بیشتر اسلامی ممالک میں بھی اب شادی کی قانونی عمر 18 سال مقرر ہو چکی ہے۔انہیں وہاں بھی سزا ہوجائے گی "
"دیکھو، دنیا کا سماجی ڈھانچہ بدل چکا ہے۔ وہ دور لد گیا جب نہ اسکول تھے، نہ کیریئر، اور نہ ہی زندگی کا کوئی اور مقصد۔ لوگ بس کھیتوں میں کام کرتے تھے اور شادی ہی زندگی کا واحد محور ہوتی تھی۔ آج جو بھی ملک سماجی ضرورتوں کے مطابق قوانین بناتا ہے، اس کی تائید ہونی چاہیے۔ "
کارلا نے پینترا بدلا اور ایک چبھتا ہوا سوال کیا، "تو کیا تم ان ملاؤں کی اس تشریح کو نہیں مانتے کہ بالغ ہوتے ہی شادی کر دینی چاہیے؟ اور کیا تم اٹلی کے قانون کو اپنے عقیدے کے خلاف نہیں سمجھتے ؟ یہاں تو 18سال سے کم عمر کی شادی کو پیڈوفیلیا سمجھا جاتا ہے "
میں نے سنجیدگی اور متانت سے جواب دیا، "کارلا! اسلام میں بلوغت شادی کیلئے صرف ایک 'شرط' ہے، کوئی 'حکم' نہیں کہ جیسے ہی بلوغت ہو، فوراً شادی کر دی جائے۔شادی کے لیے ذہنی پختگی، سماجی ذمہ داری اور سب سے بڑھ کر 'ریاست کا قانون' مقدم ہے۔"
میں نے بات کو مزید واضح کیا ، " جہاں تک تم نے اٹلی کے قانون کی بات ہے، تو بطور مسلمان ہم جس ملک میں رہتے ہیں، اس کے جائز قوانین کی پابندی ہم پر دینی طور پر بھی فرض ہے۔
قرآن کا واضح حکم ہے:
'اے ایمان والو! اپنے عہد (معاہدوں) کو پورا کرو' (سورۃ المائدہ)۔
جب ہم کسی ملک کا ویزہ لیتے ہیں یا شہریت، تو ہم دراصل اس ملک کے قانون پر عمل کرنے کا ایک تحریری اور خاموش معاہدہ کرتے ہیں۔ اسلام دھوکہ دہی یا عہد شکنی کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔"
اور رہی بات نو سال کی،" میں نے میلانیا کی طرف دیکھ کر پوچھا، "کیا وہ مولوی صاحب اپنی سگی نو سال کی بیٹی کسی مرد کے حوالے کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ کبھی نہیں۔ یہ صرف دوسروں کی زندگیوں سے کھیلنے والی غیر ذمہ دارانہ تشریحات ہیں۔
میں نے کہا یاد رکھیں ۔ اسلام کا سنہری اصول ہے: 'لا ضرر ولا ضرار' یعنی نہ خود کو نقصان پہنچاؤ اور نہ معاشرے کو۔ اگر کم عمری کی شادی سے کسی بچی کی صحت یا تعلیم متاثر ہوتی ہے، تو وہ عمل خود بخود غیر اسلامی ہو جاتا ہے۔
"اور ہاں اسلامی فقہ کا ایک سنہری اصول ہے کہ ریاست کا فیصلہ انفرادی رائے پر مقدم ہوتا ہے۔ اگر کوئی حکومت 'پبلک انٹرسٹ' یعنی عوامی مفاد کی خاطر شادی کی کوئی عمر طے کرتی ہے تاکہ نوجوان اپنی تعلیم مکمل کریں اور ذہنی طور پر پختہ ہوں، تو یہ فیصلہ عین اسلامی روح کے مطابق ہے" "اسلام 'توازن' کا نام ہے۔مسلمان جہاں بھی ہوں، وہاں کے امن اور قانون کے ذمہ دار ہیں، کیونکہ بدامنی پھیلانے والا کبھی سچا مومن نہیں ہو سکتا۔"
#محموداصغرچودھری
میری آنے والی کتاب ۔۔ خدا کی تلاش ۔۔ کا ایک باب ب
نوٹ جس وقت میں نے یہ جواب دیا تھا اس وقت مجھے پتہ نہیں تھا کہ ان امام صاحب کو واقعی ڈی پورٹ کر دیا جائے گا



Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام

Admin Login
LOGIN