Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
اٹلی میںپاکستانیوںکی خاموشی ... 6 اپریل 2026
Download Urdu Fonts
اٹلی میں دو لاکھ کی پاکستانی کمونٹی ہے یقینی بات ہے کہ اس میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں ایسے نوجوان ہوں گے جنہیں اطالوی زبان پر گہرا عبور حاصل ہوگا ۔ لیکن جب بھی کوئی ایسا واقعہ سامنے آتا ہے جس کی پاداش میں پوری پاکستانی ثقافت یا ہمارے مذہب کے خلاف میڈیا پراپیگنڈہ شروع ہوتا ہے ۔تو پاکستانیوں کی آواز میڈیا اور سیاسی وسماجی حلقوں سے بالکل غائب ہوجاتی ہے ۔
ویسے تو پاکستانیوں نے بیسیوں تنظیمات بنائی ہوئی ہیں مگر ان کی اکثریت کا محور پاکستان کی سیاست ہے ۔ انہیں اٹلی کی خبریں جذبہ یا کسی اردو میں لکھنے والے میڈیم سے پتہ چلتی ہیں ۔ بریشیا میں ایک معمولی سا واقعہ ہے ۔ ایک مسجد میں اٹالین میڈیا ایک اسٹنگ آپریشن کرتا ہے ۔ ایک شخص جسے اٹالین کا ایک لفظ نہیں آتا ۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ جو کہنے جا رہا ہے وہ ریکارڈ ہورہا ہے ۔ کسی کو یہ بھی نہیں پتہ کہ اس کا ترجمہ کرنے والا کیا واقعی حرف بحرف ٹھیک کررہا ہے ۔اور سٹنگ آپریشن بھی کسی تقریر یا تبلیغ کا نہیں ہے ۔ وہ شخص باقاعدہ طور پر کسی مسجد کا امام بھی نہیں ہے۔ وہ ملکی قوانین کے خلاف باقاعدہ کوئی مہم بھی نہیں چلا رہا ہے ۔ لیکن میڈیا یہ کہنا شروع ہوجاتا ہے یہ سب ہیں ہی ایسے اور ان کا مذہب ایسا ہے اور اس کو ملک بدر کردینا چاہئے ۔ اس سارے ہنگامے میں تین مہینے گزر جاتے ہیں ۔ لیکن پاکستانی کمونٹی سوشل میڈیا پر کیا بحث کر رہی ہے ۔ نہیں وہ بنگالی ہوگا۔ نہیں وہ فلاں مسجد کا امام نہیں ۔ نہیں وہ پاکستانی ہی نہیں ہے ۔ نہیں وہ اس کی بات کا یہ مطلب نہیں ۔ نہیں اس کی کسی نے سنی نہیں ۔
ایسے میں کمونٹی کیا کرتی ہے ۔ ہر اس سوشل میڈیا انفلو ئنسر کے خلاف ہوجاتی ہے ۔ جو سوشل میڈیا پر یہ لکھتا ہے ۔ کمونٹی اطالوی اخبار کو تو جواب نہیں دے سکتی ہے البتہ وہ ہر اس اردو لکھنے والے کے خلاف ہوجاتی ہے جو اس خبر کو بتاتا ہے ۔ کہ کیوں ان کے نزدیک وہ ملک کو بدنام کر رہے ہیں ۔
حالانکہ ملک کو بدنامی سے بچانے کا واحد طریقے ہے یہ کے میڈیا کو بتایا جائے کہ کسی ایک ملک کے ایک سر پھرے کا بیان پورے ملک کی اکثریت کا نہ تو خیال ہے اور نہ ہی پریکٹس ہے ۔ گزشتہ سال ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ بچیاں ایسی ہیں جن کی عمریں 35 سال سے زیادہ ہو گئی ہیں اور ان کی شادی نہیں ہوئی تو اسی ملک کے شہریوں پر الزام لگانا اور انہیں بدنام کرنا کیا صحیح ہے ؟ کیا کسی جماعت نے یہ فگر اطالوی میڈیا کو دئیے کہ کسی سر پھرے کے ایک خفیہ کیمرے پر دئیے گئے ایک بیان کو کیسے پاکستانیوں کا نمائندہ بیان سمجھ لیا گیا
کیا کیا جا سکتا تھا؟ سب سے پہلے تو کمونٹی کا جواب ایسے کسی بھی مسئلے میں یہ آنا چاہئے کہ پاکستانیوں کی کوئی نمائندہ جماعت ہوتی جو یہ پریس ریلیز جاری کرتی کہ پاکستانیوں کی تمام کمونٹی ایسے کسی بھی شخص کے خیالات سے فاصلہ اختیار کرتی ہے جو اٹلی کے قانون کے خلاف سوچ رکھتا ہے ۔
دوسراحوالہ یہ دیتی کہ پاکستان کا تو خو د اپنا قانون اب اٹلی کے قانون سے مطابقت رکھتا ہے ۔
تیسر احوالہ یہ دیتی کہ متعلقہ شخص کسی مسجد کا امام نہیں ہے اس لئے تمام پاکستانی اماموں کو بدنام نہ کیا جائے ۔
چوتھا کام یہ کرتی کہ کسی پاکستانی امام کی جانب سے یہ بیان واضح طور پر دلواتی کہ اسلام کسی بھی ملک کے مقامی قوانین کے احترام کا باقاعدہ درس دیتا ہے ۔ پانچواں کام یہ کرتی کہ دنیا کو بتاتی کہ پاکستان میں 35سال کی عمر کی ایک کروڑ بچیاں شادی کی بغیر بیٹھی ہوئی ہیں جنہیں بر نہیں مل رہا تو یہ بدنام کرنا تو کسی ایک شخص کے بیان کو پوری قوم اور ایک پورے مذہب کے خلاف جوڑ کر میڈیا مہم چلانا ۔ اسلامو فوبیا پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
چھٹا مطالبہ یہ کرتے کہ ان موصوف کا موقف بھی سنا جائے کہ جن کی بات پر آ پ نے اتنا واویلا مچایا کہ کیا وہ ان نظریات کو واقعی اسی طرح مانتے ہیں جیسے آپ نے ترجمہ کروانے والے سے کروایا ہے ۔ عدالت بھی خفیہ کیمروں کے بیان کو نہیں مانتی جب تک وہ شخص خود اس کو تسلیم نہ کرے ۔
یہ عجیب ہے ۔ یعنی کل کوئی پوچھے کے اسلام میں قتل کی سزا سزائے موت ہے جواب دینے والا کہیں ہاں تو کیا اس کا ترجمہ بھی یہ ہوگا کہ وہ شخص قتال پر دعوت دے رہا ہے اس کی پوری بات سنیں تو وہ شاید یہ وضاحت کرے کہ وہ ایسے تمام ممالک کے قوانین کا احترام کرتا ہے جنہوں نے اس سے مختلف قوانین بنائے ہوئے ۔ رائے دینا کیا تبلیغ کرنے یا منافرت پھیلانے کے برابر ہوجاتا ہے ؟یہ کون سا انصاف ہے
میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب کسی بھی ملک کی کمونٹی پر الزام آتا ہے اور وہ اس کا جواب نہیں دیتی یا متعلقہ شخص سے فاصلہ اختیار نہیں کرتی جس نے یہ فعل کیا ہے تو وہ خاموشی ساری کمونٹی کا موقف بن جاتا ہے
میں اس سلسلے میں پورتو میجورے کی کمونٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جب وہاں پر ایک باباجی کی کم علمی کے بیان کو میڈیا نے اچھالنے کی کوشش کی تھی تو سب سے پہلے احتجاجی طور پر سامنے آئے تھے اور یہ اعلان کیا تھا کہ باباجی کے اس بیان سے پاکستانیوں کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اسی طرح کا موقف اس معاملے میں بھی آنا چاہئے تھامگر بدقسمتی سے نہیں آیا ۔ مقامی کمونٹی اور میڈیا کو بتانا ضروری ہے کہ میرے خیال میں پاکستانی کی سیاسی وسماجی تنظیمات میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ کسی بھی سماجی مسئلے پر میڈیا پر موقف دے سکیں لیکن ایسی صورت حال میں اسلامی جماعتوں کو اپنی ایک نمائندہ جماعت ضرور بنا لینی چاہئے جو اہل علم پر مشتمل ہو اور جو ایسے تنازعات میں ایسی کسی بھی کم علم اور کم فہم شخص کے بیانات سے فاصلہ اختیار کرے اور اسلام او رپاکستان کا حقیقی پیغام میڈیا کو دے سکے ۔ ورنہ خاموشی کو تائید سمجھا جائے گا اور ایک شخص کے فعل کی سزا پورے کلچر کو ملے گی ۔ یہ خاموشی ہماری ثقافت اور ہمارے موقف کا قتل ہے ۔ مسلمان کسی بھی معاشرے میں جاتا ہے تو اس کے لئے امن ، اور محبت کا داعی ہوتا ہے ۔ خطرہ نہیں ۔ جو ورکر یہاں رزق کمانے آیا ہے وہ مقامی آبادی کے قوانین تبدیل کروانے نہیں آیا وہ بے چارہ تو بس اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کرنے آیا ہے ۔ مسلمانوں کی تو پہلی ہجرت حبشہ بھی ایک غیرمسلم ملک میں تھی وہ وہاں پندرہ سال رہے ۔ کاروبار کئے ، روزگار کیا مگر ایسا کوئی حوالہ نہیں ملتا کہ انہوں نے مقامی قوانین کو تبدیل کرنے کا کوئی مطالبہ کیا ہو
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.