Mahmood Asghar

Choudhary

ایران پیرس ماڈل کیوں‌نہیں‌اپنا لیتے ...... 7 اپریل 2026
Download Urdu Fonts
ایران پیرس ماڈل کیوں نہیں اپنا لیتا
ایرانی سفیر نے مانا ہے کہ جنگ روکنے کے لئے پاکستان کی کوششیں نازک موڑ میں ہیں ثابت ہوا کہ ساری دنیا کہ نظریں پاکستان پر ہیں بشمول ایران اور امریکہ ۔ تو پھر ایران ان کو ماننے کی سنجیدہ کوشش کیوں نہ کرلیتا
ٹرمپ نے ایران کو اس کے سارے پل سارے پاورپلانٹ اور دیگر سویلین ٹارگٹ تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ بدلے میں ایران کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس کا منہ توڑ جواب دے گا
یعنی سب کچھ تباہ ہوگیا تو وہ خطے کے دیگر امریکی اتحادی ممالک کو تباہ و برباد کر دے گا
فائدہ ؟

جتنی مرضی ہے تباہی ہوجائے آخر میں پھر مذاکرات کی میز پر ہی بیٹھنا پڑتا ہے
ایران صدیوں کی خوبصورت تاریخ کا حامل ہے وہ عقلمندی کرتے ہوئے
ایران پیرس ماڈل کیوں نہیں اپنا لیتا
جب 1940 میں جرمن فوج کے مقابلے میں پیرس والوں کو سمجھ آگئی کہ ہٹلر طاقت کے نشے میں چور ہے اور وہ ہمارے شہر کو ملیامیٹ کر دے گا تو انہوں نے ایک بالکل انوکھی حکمت علمی اپنائی انہوں نے پیرس کو اوپن سٹی قرارد ینے کا فیصلہ کیا
یہ شکست تسیلم کرنا نہین تھا
بلکہ اس کے پیچھے ایک بہت بڑی حکمت عملی تھی
1- شہر کو تباہی سے بچاناتھا - اگر پیرس میں گلی گلی جنگ ہوتی تو بمباری، توپ خانے اور ٹینکوں کی لڑائی سے شہر ملبہ بن سکتا تھا—جیسے بعد میں یورپ کے کئی شہر تباہ ہوئے۔
۲ - . شہری جانوں کا تحفظ کرنا تھا۔ لاکھوں لوگ شہر میں موجود تھے۔ مزاحمت کا مطلب ہزاروں بلکہ لاکھوں ہلاکتیں ہو سکتی تھیں۔
3. ثقافتی ورثے کی حفاظت کرنی تھی - پیرس صرف ایک شہر نہیں بلکہ تہذیب، آرٹ اور تاریخ کا مرکز ہے—Eiffel Tower، Louvre Museum جیسی علامتیں خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔ 4 - یہ وقتی پسپائی تھی مکمل ہار نہیں مانی گئی
-فرانس نے مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ بعد میں ملک کے دوسرے حصوں میں اور بیرونِ ملک مزاحمت جاری رہی، جسے فرنچ مزاحمت کی شکل میں دیکھا گیا۔
اس وقت بھی کچھ لوگ اسے کمزوری اور ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھتے تھے ، جبکہ آج اسے لوگ دانشمندانہ فیصلہ کہتے ہیں جس نے ایک عظیم شہر کو تباہی سے بچا لیا۔
ایران بھی ایسا کر سکتا ہے ۔ راکھ کے ڈیر پر بیٹھ کر اس بات پر جشن منانا کہ میں جھکا نہین اس سے کہیں بہتر ہے کہ لاکھوں جانیں بچائی جائیں اس خطے کو بچایا جائے ۔ متکبر جارح کی انا کو وقتی تسکین پہنچائی جائے
آبنائے ہرمز کہیں نہیں جائے گا وہ وہیں ہے اور کسی بھی وقت دوبارہ ایڈونچر کیا جا سکتا ہے
اور جیسے پیرس آج بھی فرانس والوں کے پاس ہے ایران بھی ہمیشہ ایرانیوں کے پاس ہی رہے گا
بس تھوڑا مزاحمت کی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے لاکھوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں عرب ممالک کو جنگ میں گھسیٹنے یا ان کو مکمل تباہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔ ثالثی کو کوششوں اور جنگ کو مڈٹرم الیکشن تک کھینچا جا سکتا
کیا نہیں کیا جا سکتا ؟ تاریخ کا طالبعلم کیا کہتا ہے
مجنوں بننے کی کیا ضرورت ہے
بقول شاعر

دیکھ لیلیٰ تیرے مجنوں کا کلیجہ کیا ہے
خاک میں مل کے بھی کہتا ہے کہ بگڑا کیا ہے
#محموداصغرچودھری



Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام

Admin Login
LOGIN