Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
ایمان الحاد ، مفاد اور یورپ کا ویزہ ...... 20 اپریل 2026
Download Urdu Fonts
ایمان ،الحاد ، مفاد اور برطانیہ کی امیگریشن یہ تو سنا تھا کہ لوگ اپنے مفاد کے لئے جعلی پیر یا روحانی پیشوا کا روپ دھار لیتے ہیں ۔ لیکن ا ب پتہ چلا ہے کہ لوگ یورپ یا برطانیہ کی مستقل رہائش اختیار کرنے کیلئے جعلی ملحد ، جعلی لامذہب اور جعلی دہریہ بھی بن جاتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں نا کہ گندا ہے مگر دھندہ ہے ۔ بی بی سی کی ایک حالیہ تفتیشی رپورٹ نے اس گندے دھندے کو بے نقا ب کیا کہ برطانیہ میں کچھ وکلاء مختلف پناہ گزینوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ برطانیہ میں اگر اپنی رہائش کو مستقل بنانا چاہتے ہیں تویا تو خو د کو ہم جنس پرست ظاہر کرو یا پھر دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو ملحد یا دہریہ قرار دے دو ۔ اب سوال یہ ہے کہ کسی کے خدا کو ماننے یا نہ ماننے کی نظریات کی بنا پر جان کوکیا خطرہ ہو سکتا تھا ۔ اس لئے ان پناہ گزینوں کو ایک مکروہ طریقہ اختیار کرنے کو کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ سوشل میڈیا پر اسلام یا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں کچھ متنازع مواد لکھیں تاکہ ردعمل میں انہیں دھمکیاں اور گالیاں ملنا شروع ہوجائیں ۔ پھر وہ انہی دھمکیوں کو ثبوت بنا کراپنے پناہ کے کیس کو مضبوط بناتے ہیں جب نظر آئے کی سوشل میڈیا پوسٹس بھی ناکافی ہیں تو پھر ایسی جعلی ویب سائیٹس قائم کی جاتی ہیں جن پر ایسے کالمز ، آرٹیکل یا مضامین شائع کئے جاتے ہیں جو جذبات کو بھڑکائیں یا مزید اشتعال انگیزی پیدا کریں ۔ جن کو لکھنا نہیں آتا انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ اے آئی ٹولز استعمال کر لیں مگر رکئے !معاملہ یہاں بھی ختم نہیں ہوتا ۔ سوشل میڈیا اور دیگر کالمز آجکل فیشن میں ہیں۔ تو وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ ثبوت بھی ناکافی ہوں تو انہیں مزید مشورہ دیاجاتا ہے کہ اب ان نظریات کے عملی اظہار کیلئے بھی سامنے آؤ۔ برطانیہ میں سابق مسلمزکی باقاعدہ ایسی تنظیمات موجود ہیں جن کے ممبر اسلام چھوڑ چکے ہیں ۔ وکلاء مسلمان پناہ گزینوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ آپ ان تنظیمات کے اجلاس یا مظاہروں میں جائیں اور وہاں کھڑے ہو کر اسلام کے خلاف تقاریر کریں تاکہ ویڈیو کی شکل میں بھی مزید ثبوت پیدا کئے جاسکے اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد میرے ذہن میں ایک پرانے اٹکے ہوئے سوال کا جواب بھی سامنے آگیا ہے ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ جن ملحد ،اگنوسٹک یا دہریہ لوگوں کو میں جانتا ہوں اور جن کے ساتھ یورپ میں میرا اتنا لمبا عرصہ گزرا ۔ و ہ لوگ تو مکالمے پر یقین رکھتے ہیں ۔ اختلاف کے باوجود دوسرو ں کے عقائد او رنظریات کا احترام کرتے تھے ۔ انہوں نے توکبھی اسلام یا پیغمبر اسلام کے حوالے سے توہین آمیز رویہ نہیں اختیار کیا ۔ بلکہ یورپ میں جب بھی اسلاموفوبیا کی کوئی لہر اٹھی تو انہوں نے ہمارا ساتھ دیا ۔ انہی لوگوں کے ساتھ کئے گئے مکالموں کو میں نے اپنی آنے والی کتاب " خدا کی تلاش میں " کا موضوع بنایا ہے تو پھر یہ کون لوگ ہیں جو ملحد ہوتے ہی سب سے پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ اسلام پر تنقید نہیں بلکہ تنقیص کا رویہ اپناتے ہیں ، کیوں ان کا لہجہ مکالمے کی بجائے مخاصمت اور تصادم کا ہوتا ہے ۔ اس رپورٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس کی وجہ نظریات نہیں بلکہ مفادات ہوتے ہیں اب مجھے یورپ آنے والے ان فیشنی ملحدوں کی بھی سمجھ آگئی ۔ جنہوں نے ساری زندگی پاکستان کے افسر شاہی نظام سے فائدہ اٹھایا،مراعات لیں ، پروٹوکول انجوائے کیا اور ریٹائر ہوکے یورپ پہنچے تو پاکستان کے نظام اور مذہب کو محض اس لئے کوسنا شروع کر دیا تاکہ یہاں پر اپنے امیگریشن سٹیٹس کو مستقل بنا سکیں ۔ ان کی مثال اس جانور جیسی ہے جو جس درخت یا کھمبے کے سائے میں سستاتے ہیں اس پر ہی اپنی ٹانگ کھڑی کر کے اپنی حاجت پوری کر لیتا ہے ۔ اگر وہ واقعی اس نظام کے باغی یا ریفامر ہوتے تو اسے اس وقت چھوڑتے جب وہ خوداس کا حصہ تھے ۔ اس رپورٹ سے یہ بات بھی سمجھ آئی کہ انسان کا سب سے بڑا مذہب اکثر اس کا مفاد بن جاتا ہے۔ پاپی پیٹ اور وقتی فائدہ لوگوں کو اس حد تک لے جاتا ہے کہ وہ اپنے ضمیر، اپنے نظریات، حتیٰ کہ اپنے عقیدے تک کو قربان کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ چند روز قبل ایک پولیس افسر سے گفتگو ہوئی جو کسی ٹریننگ کے لیے پاکستان سے برطانیہ آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک دلچسپ مگر افسوسناک بات بتائی کہ دنیا بھر میں یہ اصول مانا جاتا ہے کہ مرنے والا شخص جھوٹ نہیں بولتا، او ر اس کا بیان معتبر سمجھا جاتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے مغربی قانون نافذ کرنے والے اداروں میں پاکستانیوں کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ موت کے وقت بھی اپنے مخالف کو پھنسانے کے لئے جھوٹ بول سکتے ہیں ۔ پتہ نہیں اس بات میں کتنی صداقت ہے مگر ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے ۔ آپ نے فرمایاں ہاں ، پوچھا گیا کہ کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے ۔ آپ نے فرمایا ہاں ۔ پھر پوچھا گیا کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں ۔ ۔۔ میں بھی کتنا سادہ ہوں ان لوگوں کو حدیث سنا رہا ہوں جن کا دین دھرم ، دیر حرم سب کچھ پیسہ بن چکا ہے
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.